
پشاور : سانحہ پشاور میں پاراچنار سے تعلق رکھنے والے 14 افراد شہید ہوئے شہداء کی میتیں پشاور سے ایمبولینسز کے ذریعے پاراچنار لائی گئیں اور میتوں کے ہمراہ احتجاج کیا گیا۔مختلف علاقوں سے جلوسوں کی شکل میں لوگ پاراچنار پہنچے شہداء کی میتوں کے ہمراہ احتجاج کے بعد مختلف قبرستانوں میں تدفین کردی گئی۔ ایک روزہ سوگ کے موقع پر تمام پرائیویٹ تعلیمی و کاروباری ادارے اور بازار بند کردئیے گئے۔ شرکا جنازہ سے خطاب میں علامہ فدا مظاہری، علامہ عابد الحسینی، عنایت حسین طوری، حاجی عابد حسین، علامہ صفدر علی شاہ نقوی اور دیگر رہنماؤں نےکہا کہ پشاور واقعہ دہشت گردی کا بزدلانہ اقدام ہے اور پہلے سے تھریٹ الرٹ جاری ہونے کے باوجود دہشت گردی کاواقعہ ہونا افسوسناک ہے نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کیا جائے ایک طرف مہنگائی کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں اور دوسری طرف دہشت گردوں کے رحم کرم پر عوام کو چھوڑا گیا ہے اس لئے بہتر ہوگا کہ حکومت فوری طور مستعفی ہوجائے رہنماؤں نے مسجد کی ناقص سیکورٹی پر افسوس کا اظہار کیا اور شہدا کے ورثا کو 50 لاکھ زخمیوں کو 20 لاکھ معاوضہ دینے بہترین علاج معالجہ کرانے اور شہدا کو شہید پیکج دینے کا مطالبہ کیا.


































