
اسلام آباد : مجلس وحدت مسلمین کے سیاسی رابطوں میں تیزی آگئی۔ پاکستان تحریک انصاف کےمرکزی رہنما ندیم افضل چن نے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور سیاسی امور اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایم ڈبلیو ایم کے قائد نے کہا کہ حکومت کا کالعدم جماعتوں کے ساتھ مفاہمانہ طرز عمل کسی بھی اعتبار سے حوصلہ افزا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وطن عزیز کو 70ہزار لاشوں کا تحفہ دینے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ اس طرح کے فیصلے حکومت کی ساکھ کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات، عزاداری پر غیر قانونی پابندیوں، عزاداران کے خلاف مقدمات کے اندراج اور فرقہ وارنہ مسلکی نصاب تعلیم کے حوالے سے ہمارے موقف اٹل اور بالکل واضح ہے۔ملک و قوم کا مفاد ہمیں ہر شے پر مقدم ہے۔جو بھی حکومت ملت تشیع کی مذہبی آزادی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرے گی ہم اس کی مخالفت میں کھڑے نظر آئیں گے۔ ادھر مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی کی زیر قیادت وفد نے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما نیئر بخاری سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کالعدم جماعتوں کے حوالے سے حکومتی پالیسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اسے قومی مفادات کے برعکس قرار دیا۔ ناصر عباس شیرازی نے کہا کہ شدت پسند قوتوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی لچک کے مظاہرے سے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ خراب ہو گی۔وہ عالمی ادارے جو پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگانے کے خواہاں ہیں ریاست انتظامی کمزوری دکھا کر انہیں جواز فراہم نہ کرے۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے انہیں جرات مندانہ اور عوامی امنگوں کا عکاس قرار دیا۔


































