Sun Oct 11, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

چراغ بصیرت۔۔۔ سید ثاقب اکبر

تحریر: حسین پارس نقوی

جوں جوں جنوری کے ایام گزر رہے ہیں اور فروری کا سورج طلوع ہونے کے قریب ہے، اسی طرح بے قراری و اضطراب کا طوفان بھی طلوع ہو رہا ہے اور دل ڈوب رہا ہے۔۔۔ تصورات کی دہلیز پر یادوں کا ہجوم بے کراں کسی عزیز کے بچھڑنے پر نوحہ کناں اور کسی محبوب کی جدائی پر دھڑکنوں کی راگ پر صدائے ماتم بپا ہے۔۔۔ 20 فروری 2023ء بروز سوموار یونیورسٹی سے فراغت پا کر قائد اعظم ہاسپٹل آپ کی عیادت کو پہنچا کہ جہاں مختلف شخصیات کی آمد و رفت کا سلسلہ آپ کی عیادت کی غرض سے جاری تھا۔۔۔ دن کا ایک حصہ ہسپتال میں گزارنے کے بعد رات کو اسی امید سے روانہ ہوگیا کہ جلد ہی آپ صحتیاب ہو جائیں گے اور دوبارہ اسی عشق و ولولہ اور آب و تاب سے نور بصیرت عام کرنے میں سرگرم عمل ہو جائیں گے۔۔

20 فروری کا سورج تو غروب ہوگیا مگر آسمان قلب پر امید کا سورج اپنی آب و تاب سے چمکتا رہا۔ 21 فروری بروز منگل صبح سے ہی اداسی کے بادل منڈلا رہے تھے، مگر خود کو مطمئن اور پرامید رکھا اور اسی امید کے ساتھ ہوپ سوسائٹی پاکستان کی جانب سے منعقدہ "بزم امید” میں مصروف ہوگیا۔ مگر آج کے سورج نے امید کی کرنوں کے ساتھ خیانت کی اور آفتاب بصیرت کو بھی اپنے ساتھ غروب کرکے دیار شعور و بصیرت اور راہ اخوت و وحدت کو ویران کر دیا۔۔۔
محسن وہ میری آنکھ سے اوجھل ہوا نا جب
سورج تھا میرے سر پہ مگر رات ہوگئی

دوستوں کی کالز اور میسجز کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سب ایک ناگہانی خبر کی تصدیق طلب کر رہے تھے۔۔ مگر دل تھا، جو اب بھی ایسی کسی خبر کو قبول کرنے پر آمادہ نہ تھا۔ وجود پر سکتہ طاری تھا، رات بھر امید اور تلخ حقیقت میں جنگ جاری رہی، ذہن کی دیوار پر یادوں کی فلم قسط در قسط چلتی رہی اور دل کف افسوس ملتا رہا۔۔ اس عالم ہو میں جب اظہارات کے تمام ذرائع مقفل ہوچکے تھے تو شعر کی زبان نے اپنے لبوں کو جنبش دی اور درد دل کی ترجمانی کرتے ہوئے زمین قرطاس پر الفاظ کا جلوس روانہ کر دیا کہ جو قبائے سوگ کو اوڑھے صدائے مرثیہ بلند کر رہے تھے۔۔۔

ایک شخص میں اتنے پہلو ہونا اور ہر پہلو پر منزل کمال پر فائز ہونا بھی واقعی کمال کی بات ہے۔۔ آپ کی شخصیت متفرق رنگوں سے مزین اور مختلف خوشبووں سے آراستہ تھی۔۔۔ بلکہ یہ کہوں کہ آپ ایک گلدستے کی مانند تھے، جس میں شعر و ادب کے پھول، علم و عمل کی کلیاں، شعور و بصیرت کے رنگ اور معرفت و تقویٰ کی مہک شامل تھی۔۔ آپ اخوت و وحدت کے جام سے سرشار ہوکر دشت کو گلستان اور ویرانی کو خوشحالی میں بدلنے کا پرچم اٹھا کر ایسے عالم میں میدان میں اترے، جب امن و وحدت کی بات کرنے والے کو منحرف یا مرتد خیال کیا جاتا تھا اور یہی سلوک چند مسلک پرست طبقے نے بھی روا رکھا اور آپ کو تاریکی میں اجالے اور نفرت و تعصب کی گھٹن زدہ فضا میں وحدت و اخوت کی بات کرنے اور عہد جہالت میں شعور و بصیرت کی قندیل روشن کرنے پر دشنام طرازی اور اذیت و تکلیف کا نشانہ بناتے رہے۔۔۔
شب پرستوں نے کیا اس کے بھی ہاتھوں کو قلم
جس نے دیوار پہ بھولے سے بنایا سورج۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر ان سب مخالفتوں اور رکاوٹوں کے باوجود آپ نے فقط اجالے کی بات ہی نہ کی، بلکہ شعور و بصیرت کی کرن بن کر ہر قلب و فکر کو روشن کیا اور اخوت و وحدت کا بحر بے کراں بن کر نفرتوں اور تفرقوں کے دیس میں طوفان کی صورت بنجر زمیں کو سیراب کیا۔۔ آپ کی ذات سے کئی یادیں اور باتیں وابستہ ہیں اور کشکول فکر آج بھی آپ کے وجود سے ملنے والی فکری خوراک کا مقروض ہے۔۔ آپ سے محبت و عقیدت کا تعلق تو بہت دیرینہ ہے۔۔۔ آپ کی محفل میں نہ ہی نسلی افتراق (جنریشن گیپ) کا احساس ہوتا تھا اور نہ ہی الفاظ کو ترتیب دینے کی ضرورت پڑتی تھی۔۔۔ آپ سے ہمکلامی کے دوران دیرینہ دوستی کا گمان ہوتا تھا۔۔۔

چند برس پہلے ڈاکٹر علی عباس صاحب کے ہمراہ اسلام آباد آپ کے یہاں آنے کا اتفاق ہوا۔۔ اس دوران چند کتب بطور تحفہ عنایت فرمائیں، جن میں "تربیت اولاد” بطور خاص دیتے ہوئے کہا کہ "یہ کتاب خود بھی پڑھنا اور ہونے والی بیگم کو بھی پڑھانا۔۔” مجھ سے عموماً رابطے میں کوتاہی ہو جاتی، مگر آپ وقتاً فوقتاً یاد فرماتے رہتے تھے اور خیریت دریافت کرتے تھے۔۔۔ آپ نے جھنگ آنے کا بھی عہد کر رکھا تھا، مگر زندگی نے آپ کو مہلت نہ دی اور ہم اس سعادت سے محروم رہے۔۔۔۔ آپ سے قومی و ملی تاریخ پر بھی گفتگو رہتی، جس سے واضح ہوتا تھا کہ آپ کس قدر امت مرحومہ کے ہمدرد اور ملت اسلامیہ کے لیے جذبہ اخلاص سے سرشار تھے۔۔۔ ہر ملاقات کو خوبصورت چٹکلوں، اشعار اور ادبی جملوں سے مزین کرنا آپ کا خاصا تھا۔۔۔

ہوپ سوسائٹی پاکستان کی تعمیر و تشکیل میں آپ کا ذکر ہمیشہ نمایاں رہے گا۔۔۔ سوسائٹی کے پہلے ایونٹ "اقبال فیسٹیول” میں بطور مہمان مقرر خصوصی طور پر اسلام آباد سے تشریف لائے۔۔ ایک پروگرام کے لیے آپ کا دور دراز کا سفر طے کرکے تشریف لانا دراصل ہوپ سوسائٹی کی افادیت سے آگاہ ہونے کے سبب تھا اور ہوپ سوسائٹی سے آپ کا محبت و شفقت کا یہ تعلق تا دم آخر قائم رہا۔۔۔ آپ امید کے اس باغ کے باغبان تھے۔۔۔ آپ جب بھی لاہور آتے تو ملاقات کے لیے ضرور بلاتے۔۔۔ شاید ہی ہماری کوئی ایسی ملاقات ہو، جس میں آپ نے سوسائٹی کی بابت دریافت نہ کیا ہو۔۔۔ آپ سوسائٹی کے امور میں ذاتی طور پر دلچسپی لیتے تھے۔۔۔ آپ وفات سے ایک سال قبل یعنی فروری 2022ء میں لاہور تشریف لائے تو ملاقات کے لیے بلایا۔۔۔

میں حاضر ہوا تو آپ کے ہمراہ آپ کے فرزند ڈاکٹر علی عباس صاحب اور آپ کے چند دیرینہ دوست موجود تھے۔۔۔ آپ نے مجھے اپنے ساتھ صوفے پر جگہ دی اور گفتگو کرنے لگے تو آپ کے ایک رفیق گویا ہوئے کہ "ثاقب بھائی! آپ ابھی تنظیمی پروگرام میں بھی یہی نصیحتیں کرکے آرہے ہیں، مگر ان جوانوں پر اثر تو ہوتا نہیں۔” اس پر آپ نے فرمایا کہ "یہ لڑکا اسی طرز پہ پہلے سے کام کر رہا ہے، آپ بھی ان کا کام ضرور دیکھیں۔” تھوڑی دیر بعد سرگوشی کے انداز میں مخاطب ہوئے "الحمدللہ اب میں سکون سے مرسکتا ہوں۔” آپ کے اس جملے سے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے آپ کی زندگی کے تمام پراجیکٹ ہوپ سوسائٹی پاکستان کے قیام کے بعد مکمل ہوچکے ہوں اور اب آپ اپنے نئے پروجیکٹ اور نئے سفر کا آغاز کرنا چاہتے ہوں اور ایسا ہی ہوا۔ آپ کی اس نشست کے ٹھیک سال بعد انہی تاریخوں میں آپ کا انتقال ہوا۔۔۔ وہ 23 فروری 2022ء کی رات تھی، اس وقت احساس تک نہ ہوا کہ آپ ٹھیک سال بعد انہی تاریخوں میں جدا ہو جائیں گے۔۔۔

مگر !!!
جانے والے نے تو یہ بھی نہیں سوچا محسن
جو اسے دیکھ کے جیتے تھے کدھر جائیں گے
آپ کے ساتھ یہ نشست واقعاً بہت یادگار اور دلربا رہی، آپ نے اس دفعہ بھی اپنی چند کتب عنایت فرمائیں اور جاتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے: "میں تمہیں بڑے عرصے سے جانتا ہوں اور تمہیں دیکھ رہا ہوں، تمہاری غیر معمولی صلاحیتوں نے مجھے متاثر کیا ہے اور آج بھی خدا نے میرے ذہن میں تم سے ملنے کا خیال ڈالا، ورنہ میں نے پروگرام کے بعد واپس جانے کا ارادہ کیا تھا، مگر تمہاری وجہ سے رکنے پر مجبور ہوا۔” میں نے جواباً عرض کیا کہ "یہ تو آپ کی بالا نظری اور مبالغہ ہے۔” جس پر آپ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ "میں بے جا مبالغہ نہیں کرتا۔” آپ نے سینے سے لگایا اور اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئے۔۔

ایک دفعہ آپ نے کال کی اور فرمایا کہ "کچھ دن تک لاہور آنا ہوگا اور اس کے بعد دادا جی کے مریدوں کے پاس جانا ہے، آپ آمادہ رہیں، یہ سفر اکٹھے کریں گے۔۔۔ راستے میں گفتگو بھی کریں گے اور آپ کو مریدوں سے بھی ملوائیں گے "مگر ایک رات پہلے آپ کی کال آئی اور حیدر نقوی صاحب کی طبیعت کی خرابی کے باعث پروگرام کے التوا سے آگاہ کیا۔۔۔ آپ سے ہمیشہ اپنائیت کا احساس ہوتا تھا۔۔ سوسائٹی کے پہلے کنونشن پر آپ خصوصی طور پر اسلام آباد سے لاہور تشریف لائے۔۔۔ کنونشن کی تقریب 29 جولائی 2022ء بروز جمعہ دبستان اقبال لاہور میں منعقد ہوئی۔۔۔۔ جس میں آپ بطور مہمان خصوصی شریک تھے۔۔ آپ نے نئی کابینہ کا اعلان کیا، مگر سوسائٹی کے اراکین کی رائے کے مطابق ایک سال کے لیے چند افراد پر مشتمل کابینہ تشکیل دی گئی اور طے کیا گیا کہ ان میں سے سنجیدہ اور متحرک شخص کو آئندہ سال کے لیے چیئرمین بنایا جائے گا، مگر جب آپ سٹیج پر آئے اور تمام کابینہ کا اعلان کرچکے تو مجھے اپنے پاس سٹیج پر بلایا اور مجھے بطور چیئرمین نامزد کر دیا۔۔۔ تب سے اس ذمہ داری کا بوجھ مزید دوگنا ہوگیا۔۔۔

آپ کی شخصیت سے اتحاد و وحدت کا عملی پرچار نظر آتا تھا۔۔۔ حتیٰ کہ آپ سوسائٹی میں مذہبی مساوات اور صنفی مساوات پر ہمیشہ تاکید کرتے تھے۔۔۔ آپ اپنی بصیرانہ گفتگو سے مخاطب پر تادیر اثر قائم کر لینے کا ہنر جانتے تھے۔۔۔ آپ واقعاً روح کے ڈاکٹر تھے۔۔۔ ایک دفعہ اسلام آباد میں ملاقات کے دوران ایسا جملہ کہا، جس سے روح تروتازہ ہوگئی۔۔ آپ نے کہا کہ "کبھی کبھی حواریوں سے نکل کر حرا میں آجانا چاہیئے۔” آپ کی یاد میں لکھے جانے والے مرثیہ سے انتخاب:
گفتار سے چمن میں وہ رس گھولتا رہا
حکمت کے موتیوں کی گرہ کھولتا رہا
تنہاء وہ نفرتوں کے بھنور موڑتا رہا۔۔۔
دل کا طبیب، روح کا ڈاکٹر چلا گیا
افسوس ہے کہ ثاقب اکبر چلا گیا

آپ بصیرت و شعور کے علمبردار تھے اور ہر بات کو آب بصیرت سے غسل دے کر ادا کرتے تھے۔۔۔ لاہور میں مجلس بصیرت کے دوبارہ احیاء کا کام شروع ہوا تو اس کے انعقاد کی ذمہ داری بھی ہوپ سوسائٹی کو سونپی۔۔ گو کہ آپ کی طبیعت ان دنوں بھی ناساز تھی، مگر بصیرت کا نور عام کرنے آپ اسلام آباد سے لاہور تشریف لائے اور مجلس بصیرت کو ادارہ التنزیل میں ڈاکٹر علی عباس صاحب کی میزبانی میں منعقد کیا گیا۔۔۔ اسی موقع پر ہوپ سوسائٹی کی جانب سے شام غزل کا بھی انعقاد کیا گیا۔۔۔ شام غزل کے اختتام پر مجھے بلایا اور فرمایا کہ "پارس تمہارا اس عمر میں ایسے اشعار کہنا حیران کن ہے۔۔۔ تم شاعر تو اچھے ہو پر (مسکراتے ہوئے) تمہارے کچھ مسائل حل ہونے والے ہیں۔”

اس موقع پر آپ نے سید شہزاد روشن گیلانی صاحب کی سالگرہ کی تقریب منعقد کرنے کی بھی تاکید فرمائی۔۔۔ آپ کی شخصیت سے منسلک کئی یادیں وابستہ ہیں، جنہیں ایک مضمون میں پرونا ممکن نہیں۔۔ اس امر کے لیے کم از کم کتاب درکار ہے، جو آپ کے احسانات کا قرض بھی یے اور فرض بھی۔۔۔ اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ ان کے افکار و نظریات کو سمجھیں اور ان کے خوابوں کی تعبیر کریں۔۔۔ خدا ان کے مزار پر رحمات و برکات کا نزول فرمائے، جو اپنی ظاہری خاموشی سے بھی حکمت کے موتیوں کی گرہیں کھول رہا ہے اور اہل بصیرت و شعور کے ارتقاء کا مرکز ہے۔۔۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular