
لندن : انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اراضی پر قبضے کے حالیہ فیصلے مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی پالیسی میں وسعت اور تیزی کا ثبوت ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اسرائیل مغربی کنارے میں مزید فلسطینی زمین پر قبضہ کرکے غیر قانونی صیہونی آبادکاریاں قائم کر رہا ہے۔
تنظیم کی علاقائی ڈائریکٹر حبہ مریف کے مطابق اسرائیل نے اوسلو معاہدوں کے تحت فلسطینی انتظام میں رہنے والے ایریا اے میں پہلی مرتبہ فلسطینی اراضی ضبط کی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے، جبکہ اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی روابط رکھنے والی ریاستیں اور نجی ادارے ان اقدامات سے فائدہ اٹھانے سے گریز کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک اسرائیل کو اس کی غیر قانونی بستیوں یا دیگر جنگی جرائم کی توسیع میں مدد فراہم کرتا ہے وہ فلسطینیوں کے خلاف کیے جانے والے بین الاقوامی جرائم میں شریک ہونے کا خطرہ مول لیتا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ اسرائیل نجی فلسطینی اراضی پر فوجی اڈے قائم کرنے کے ساتھ بدوی فلسطینی برادریوں اور چرواہوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ ایمنسٹی نے خبردار کیا کہ جنین میں غیرقانونی صیہونی آبادیوں کے لیے بنائی جانے والی سڑک شہر کو دیگر فلسطینی آبادیوں سے الگ کر سکتی ہے۔


































