کونسل کا اجلاس وائرس کی تباہ کاریوں اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے پر غور کیلئے بلایا گیا تھا لیکن امریکا وائرس کے نام اور اس کی جائے پیدائش پر الجھا رہا
سلامتی کونسل کا مینڈیٹ نہیں ہے کہ وہ کرونا وائرس کے معاملے میں مداخلت کرے، چین کو بدنام کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرنا چاہیے،چین کا انتباہ
نیویارک (نیوزڈیسک) کورونا وائرس وبا کی تباہ کاریوں پر غور کے لیے بلایا گیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس امریکا چین تنازع کی نذر ہو گیا، سلامتی کونسل کا اجلاس وائرس کی تباہ کاریوں سے نمٹنے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے پر غور کیلئے بلایا گیا تھا لیکن امریکا اور چین کے نمائندے وائرس کے نام اور اس کی جائے پیدائش پر الجھے رہے، دونوں ممالک کے نمائندوں نے سلامتی کونسل کے ایکشن نہ لینے پر تنقید بھی کی، اجلاس کے دوران چین نے مخالفت کی کہ سلامتی کونسل کا مینڈیٹ نہیں ہے کہ وہ کورونا وائرس کے معاملے میں مداخلت کرے، چین کے سفیر زان جون نے کورونا وائرس کے معاملے میں کونسل کی مداخلت پر اظہار ناراضی کیا اور کہا کہ یہ معاملہ سلامتی کونسل کا مینڈیٹ نہیں، کونسل کو وائرس پر سیاست اور چین کو بدنام کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرنا چاہیے، عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے اتحاد، تعاون اور مخلصانہ حمایت کی ضرورت ہے تاہم الزام تراشیوں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا،امریکی سفارت کار کیلی کرافٹ نے زور دیا کہ کورونا وائرس سے متعلق کونسل کے کسی بھی ایکشن میں وائرس کی جائے ولادت چین کا حوالہ ہونا چاہیے، دنیا کی نظریں ہم پر لگی ہوئی ہیں اس لیے ہمیں انسانی جانوں کو بچانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، وبا پر قابو پانے کا سب سے مؤثر طریقہ درست معلومات، سائنسی ڈیٹا، اس وائرس کی جنم بھومی کا تجزیہ اور اس کے پھیلاؤکا جائزہ لینا ہے، اجلاس کے بعد ایک مختصر اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ کونسل اس بات کی کوشش کررہی ہے کہ اسے کورونا وائرس سے متعلق کوئی ایکشن لینا چاہیے یا نہیں۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- (کورونا وائرس) سلامتی کونسل میں امریکا اور چین میں شدید…
(کورونا وائرس) سلامتی کونسل میں امریکا اور چین میں شدید جھڑپ،الزامات کی بوچھاڑ
-
Ilyas - اپریل 17, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 10
- 0 minute read


































