
📌عید الاضحی عقل اور وحی کے ہوا و ہوس پر کامیابی حاصل کرنے کا دن ہے. حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تھی، الله تعالی نے انہیں فرزند سے نوازا، ابھی اس بیٹے کے بچپن کا ہی زمانہ تھا کہ خدا کا حکم آ گیا کہ اپنے بچے اور انکی ماں کو مکہ کے بے آب و گیاه صحرا میں چھوڑ دیں اور خود بھی ان سے جدا ہو جائیں، ان دنوں اس صحرا میں کسی بھی چیز کا نام و نشان تک نہ تھا.
📝حضرت ابراہیمؑ بھی انہیں مکہ کے تپتے صحرا میں تنہا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور پھر ہر کچھ عرصہ بعد ان سے ملاقات کے لیے آیا کرتے تھے.
👈اب جبکہ انکا چھوٹا سا بیٹا نوجوان ہو کر انکی آنکھوں کا نور بن چکا تھا، دوباره خدا کا حکم آتا ہے کہ اپنے ہاتھوں سے اپنے اس بیٹے کو ذبح کرو اور آپؑ بھی خدا کے حکم میں شک نہیں کرتے، اس حکم کی دلیل نہیں پوچھتے اور ٹال مٹول سے بھی کام نہیں لیتے،
⚠️بالکل ہمارے برعکس کہ اگر ہماری نفسانی خواہشات کے خلاف کوئی حکم آتا ہے تو یا خود اس حکم کے ہونے پر شک کرتے ہیں یا اس حکم کے معنی اور مقصد میں شک کرتے ہیں یا اس حکم کی دلیل جاننے کے پیچھے پڑ جاتے ہیں.
✅ضروری ہے کہ ہم کچھ دن اور راتیں حضرت ابراہیمؑ کی سرزمین پر گذاریں، پوری دنیا سے جا کر وہاں اکھٹے ہوں اور اس بارے میں سوچیں کیونکہ یہ سر تسلیم خم کرنے کی سرزمین ہے، ایسی سرزمین جہاں حضرت اسماعیلؑ کا چہره مبارک خدا کے حکم کی تعمیل اور ذبح ہونے کے لیے اس سرزمین پر قرار پایا، ایسی سرزمین جہاں شیطان کو دھتکارا گیا،
👈خلاصہ یہ ایسی عید کا دن ہے جس میں آپ پتھروں کے ذریعے بیرونی دشمن کو نابود کرتے ہیں اور چاقو اور بھیڑ کی قربانی کے ذریعے نفسانی خواہشات کو.
حجت الاسلام محسن قرائتی
🌺🌺🌺عید الاضحیٰ کے انتہائی بابرکت موقع پر تمام عالم اسلام کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔


































