
استنبول کی عدالت میں 20سعودی شہریوں کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں مقدمے کی کارروائی،مجروں کی فہرست میں بن سلمان کے دو سابق اعلیٰ مشیر شامل
خاشقجی کی منگیتر سماعت کے دوران موجود، نئے اوراہم شواہد سامنے آنے اور لاش کی نشاندہی کیلئے پرامید، قتل سوچے سمجھے منصوبہ کا حصہ تھا،نمائندہ اقوام متحدہ
انقرہ(نیوزڈیسک) ترکی میں استنبول کی عدالت نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 20 سعودی شہریوں کے خلاف مقدمے کی کارروائی کا آغاز کردیا ہے، مجروں کی فہرست میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت دو سابق اعلیٰ مشیر بھی شامل ہیں،، یہ مقدمہ سعودی مشتبہ افراد کی عدم موجودگی میں چلایا جارہا ہے، ملزمان پر جان بوجھ کر اور بہیمانہ طریقے سے قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا اور استغاثہ نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے تھے یاد رہے کہ جمال خاشقجی کو 12 اکتوبر 2018 میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں وحشیانہ طور پرقتل کیا گیا تھا ، خاشقجی کی منگیتر خدیجہ چنگیز اقوام متحدہ کے ماورائے عدالت ہلاکتوں کو قلم بند کرنے والے خصوصی نمائندے ایگنس کالامرڈ کے ہمراہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران موجود تھیں،خدیجہ چنگیز کو امید ہے کہ اس مقدمے میں نئے اور اہم شواہد سامنے آئیں گے اور یہ معلوم ہو گا کہ خاشقجی کے ساتھ کیا کیا گیا،اور ان کی لاش کہاں ہے، ترک استغاثہ نے احمد الانصادی اور سعود القتانی پر اس قتل کی سازش کرنے اور اس پر عمل کروانے کا الزام عائد کیا ہے، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ کالامرڈ کا کہنا ہے کہ خاشقجی کا قتل ایک سوچے سمجھے منصوبہ کا حصہ تھا اوریہ ایک ماورائے عدالت قتل ہے جس کی ذمہ دار سعودی حکومت ہے۔


































