
کراچی : کراچی میں خانۂ فرہنگِ جمہوریۂ اسلامی ایران کے زیرِ اہتمام انقلابِ اسلامی ایران کی 47 ویں سالگرہ نہایت وقار اور شان و شوکت کے ساتھ منائی گئی، جس میں شہرِ کراچی سمیت ملک بھر سے تعلق رکھنے والی تین سو سے زائد ممتاز علمی، ادبی، مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ ڈائریکٹر جنرل خانۂ فرہنگ ڈاکٹر سعید طالبی نیا نے اپنے خطاب میں بانی انقاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ کی انقلابی بصیرت، ولی امر مسلمین سید علی خامنہ ای کی قیادت، مزاحمت کے تسلسل اور ظلم و استکبار کے خلاف استقامت کے پیغام کو اجاگر کیا۔
صدرِ محفل علامہ سید حسن ظفر نقوی نے انقلابِ اسلامی کو ایک تناور درخت قرار دیتے ہوئے اسے امتِ مسلمہ کی بیداری اور مظلوم اقوام کی امید سے تعبیر کیا۔ اس تقریب میں مختلف مکاتبِ فکر کے علما، ذاکرین، وکلا، اساتذۂ جامعات، سفارتی نمائندگان، شعرا، ادبا، فنکار، سیاسی قائدین اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شرکت نے بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کی عملی تصویر پیش کی۔ مہمانِ خصوصی یوسف بشیر قریشی نے ایران کے اپنے روحانی و ثقافتی تجربات بیان کرتے ہوئے ایرانی قوم کی خود انحصاری، شہداء سے وابستگی، اخلاقی اقدار اور مہمان نوازی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ پروگرام کے آخر میں 120 پاکستانی شعرا کے کلام اور اس کے فارسی تراجم پر مشتمل کتاب ’’ندائے استقامت‘‘ کی رونمائی عمل میں آئی۔


































