
واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن بھی خفیہ سرکاری دستاویزات گھر لے جانے میں ملوث نکلے۔ بائیڈن کی نجی رہائش گاہ سے خفیہ دستاویزات کا دوسرا سیٹ ملنے کے بعد تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ محکمہ انصاف نے دستاویزات کی تحقیقات کے لیے رابرٹ ہور کو خصوصی وکیل مقرر کردیا ہے۔ اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے بتایا کہ دستاویزات کی دریافت کے غیر معمولی حالات کے پیش نظر خصوصی وکیل مقرر کیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے وکیل رچرڈ سوبر نے کہا کہ صدر بائیڈن خصوصی مشیر کے ساتھ تعاون کریں گےوہ پر اعتماد ہیں ایک مکمل جائزہ یہ ظاہر کرے گا کہ خفیہ دستاویزات نادانستہ طور پر غلط جگہ تھیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرن جین پیری نے بتایا کہ صدر نے معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ اُدھر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بائیڈن کی رہائش گاہ سے فائیلیں ملنے کے بعد اپنے خلاف خفیہ فائلوں کے غلط استعمال کی تحقیقات بندکرنے کا مطالبہ کردیا۔


































