
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف جنگ میں مزید شدت لانے پر خدشات کا اظہار کر دیا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق یہ خدشات جمعے کو اس وقت سامنے آئے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ میں شدت لانے کے امکان پر غور کر رہے تھے۔ جمعے کی رات سے امریکا نے تقریباً دو ہفتوں تک مسلسل جاری رہنے والے فضائی حملوں کے بعد ایران پر بمباری بظاہر روک دی ہے۔ سی این این نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنرل ڈین کین نے خاص طور پر امریکی اسلحے کے ذخائر اور دیگر ممکنہ منفی اثرات پر تشویش ظاہر کی۔ ایک ذریعے کے مطابق جنرل ڈین کین نے ٹرمپ کو بتایا کہ امریکی فوج ٹرمپ کے دستیاب آپشنز پر عمل کر سکتی ہے اور کامیاب بھی ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے ممکنہ نتائج سے خبردار بھی کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ اسلحہ کے ذخائر سے متعلق خدشہ اُن کئی خدشات میں سے ایک تھا جو اس اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کے سامنے رکھے گئے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہی خدشات یا جنگ میں شدت کے حوالے سے انتباہ وہ بنیادی وجوہات تھیں جن کی بنا پر امریکا نے مسلسل حملوں کو روکا، یا آیا یہ وقفہ برقرار رکھا جائے گا یا نہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق اگرچہ ٹرمپ نے اس ہفتے ایران پر بڑے حملے پر غور کرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن ذرائع کے مطابق انہوں نے نجی طور پر اپنے مذاکرات کاروں کو ہدایت دی کہ وہ ایران سے بات چیت جاری رکھیں۔ متعدد ذرائع نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ ٹرمپ کے قریبی حلقے یا پینٹاگون میں چند لوگوں کو ہی یہ امید ہے کہ ایران جنگ میں شدت لانے سے متوقع نتائج مل سکتے ہیں۔
یادر ہے کہ ایران کیخلاف جارحیت سے پہلے امریکی فوجی قیادت نے ٹرمپ کو سنگین نتائج سے خبردار کیا تھا۔ بعد میں امریکی انتظامیہ کے ساتھ فوج کے اختلافات مزید واضح ہو گئے جس کے نتیجے میں ایک درجن کے قریب جرنیلوں کو ہٹایا گیا یا انہیں برطرف کیا گیا۔ اپریل 2026ء میں امریکی وزیر جنگ ہیگستھ نے آرمی چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج کو فوری طور پر ریٹائر ہونے کو کہا، جس کی وجہ مبینہ طور پر اہم فیصلوں پر اختلافات تھے۔ ان کے ساتھ ہی جنرل ڈیوڈ ہوڈن (آرمی ٹریننگ کمانڈ کے سربراہ) اور میجر جنرل ولیم گرین جونیئر (آرمی چیپلین کور کے سربراہ) کو بھی ہٹا دیا گیا۔ مزید برآں، جنرل کرس سی ڈی ڈوناہیو (یورپ اور افریقہ میں آرمی فورسز کے سربراہ) کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔


































