
تہران: ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا عمان پر دباؤ ڈال کر آبنائے ہرمز کے مشترکہ طریقہ کار کی تشکیل میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا نے اسلام آباد میمورنڈم کی خلاف ورزیاں کیں، امریکا کے خلاف جوابی کارروائیاں ایران کا جائز حق ہے، امریکا مفاہمتی یادداشت میں واضح کی گئیں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے معاملے پر عمان کے ساتھ مشترکہ طریقہ کار تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے، امریکا کا عمان پر دباؤ اس عمل میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ ںے کہا ہے کہ ایران کو دفاع پر موردِ الزام ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے، کیونکہ ایران نے کسی بھی حملے میں پہل نہیں کی اور اس کے تمام اقدامات حقِ خود دفاع کے تحت کیے گئے۔
تہران میں پریس بریفنگ کے دوران ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکی اڈوں پر کی جانے والی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق حقِ دفاع کے دائرے میں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو فوجی اڈے فراہم کرنے والے ممالک سے بھی اس حوالے سے سوال کیا جانا چاہیے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اقوام متحدہ نے ایران کے مؤقف کو نظر انداز کیا، جبکہ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمتی یادداشت اس وقت بحران کا شکار ہے اور جب تک امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا، ایران بھی اس پر عمل درآمد نہیں کرے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کے خلاف ایران کی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے حقِ دفاع کا استعمال ہیں۔ بقائی نے کہا کہ آپ کو ان ممالک سے پوچھنا چاہئے جو اپنی سرزمین اور اڈے امریکا کو فراہم کرتے ہیں، بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرانے کے بجائے ایران کو اپنے دفاع کے لیے موردِ الزام ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان کو طنزیہ انداز میں خلیج فارس کے نام سے متعلق سرکاری دستاویزات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ درست نام خلیج فارس ہے، براہِ کرم اقوام متحدہ کی متعلقہ ہدایات پر عمل کریں جن کے مطابق مکمل نام خلیج فارس کا استعمال لازمی ہے۔


































