
غزہ: وسطی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں تین سالہ بچے سمیت دو فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ غزہ کے طبی حکام کے مطابق دیر البلاح میں بیکری کے قریب ہونے والے حملے میں حسام نصیر اور تین سالہ بچے تیم حمدان شہید ہوگئے، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ حملے میں حماس کے جنگجو کو نشانہ بنایا گیا۔
اکتوبر 2025ء میں امریکا کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد غزہ میں بڑے پیمانے کی لڑائی رک گئی تھی تاہم اسرائیلی فوج کی جانب سے حملے جاری رہے ہیں۔
دوسری طرف غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ 14 لاکھ سے 16 لاکھ کے درمیان فلسطینی خوراک کے انتہائی شدید اور خطرناک سطح کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ سردی کے مضمرات اور پناہ گاہوں کا سامان اور امداد داخل کرنے پر قابض اسرائیل کی مسلسل پابندیوں کے حوالے سے بھی شدید انتباہات جاری کیے گئے ہیں۔
ہلالِ احمر نے بتایا کہ غزہ کے شمال میں قابض فوج کے کنٹرول والے علاقوں سے باہر قابض فوج کی فائرنگ سے دو فلسطینی زخمی ہو گئے۔ کئی علاقوں میں توپ خانے سے گولہ باری بھی دیکھی گئی، جہاں قابض فوج نے جبالیا کیمپ کے مشرق میں گھروں کو بارود سے اڑانے کے عمل کے ساتھ ساتھ توپ خانے سے نشانہ بنایا، جبکہ رفح کے شمال مغرب میں بھی توپ خانے کی گولہ باری کی گئی، اور البریج کیمپ کے مشرق میں اسرائیلی گاڑیوں کی طرف سے فائرنگ کی گئی۔
یہ تمام پیش رفت اس جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے تسلسل کے سائے میں سامنے آ رہی ہے، جنگ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک شہداء اور زخمیوں کی کل تعداد بڑھ کر 1318 شہداء اور 4375 زخمی ہو چکی ہے، جبکہ غزہ میں وزارتِ صحت کے مطابق سات اکتوبر سنہ 2023ء کو اسرائیلی جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک مجموعی شہداء کی تعداد 73,454 اور زخمیوں کی تعداد 174,486 ہو چکی ہے۔


































