
تل ابیب: سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی طلبہ میں اسرائیل ایک منفی برانڈ بن چکا ہے اور اسرائیل کا نام آتے ہی نسل کشی کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ فتالی بینیٹ نے کہاکہ اسرائیل کے قیام کے بعد پہلی بار امریکی عوام میں اسرائیل ایک منفی برانڈ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے بقول اگر کسی امریکی طالب علم سے اسرائیل کے بارے میں پوچھا جائے تو اس کے ذہن میں نسل کشی کا لفظ آتا ہے۔ بینیٹ نے ایک پوڈ کاسٹ میں اسرائیل کی موجودہ عالمی شبیہ کا موازنہ مختلف ممالک سے وابستہ عام تصورات سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی کا نام سن کر پاستا اور اسپگیٹی یاد آتے ہیں، جبکہ اسرائیل کا نام سن کر بچوں کے قاتل کا تصور سامنے آتا ہے۔ بینیٹ نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست یا منصفانہ نہیں، تاہم موجودہ صورتحال یہی ہے۔ انہوں نے امریکی رائے عامہ میں تبدیلی کی ایک وجہ قطر کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو بھی قرار دیا۔ بینیٹ کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ پچیس برس کے دوران قطر کو امریکا میں اثر و رسوخ قائم کرنے کی اجازت دی۔


































