
لندن : ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستی کے جرم میں ملوث قرار دیدیا، انسانی حقوق کے عالمی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ ایک کمتر نسلی گروہ کے طور پر سلوک کرنے کے لیے اسرائیل کو جوابدہ ہونا چاہیے۔ 25 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ کس طرح اسرائیلی حکام فلسطینیوں کے خلاف جبر اور تسلط کا نظام نافذ کرتے ہیں۔رپورٹ میں اسرائیلی زیادتیوں کی ایک رینج کی فہرست دی گئی ہے، جس میں فلسطینیوں کی اراضی اور املاک پر وسیع پیمانے پر قبضے، غیر قانونی قتل، زبردستی منتقلی، نقل و حرکت پر سخت پابندیاں، انتظامی حراست اور فلسطینیوں کو قومیت اور شہریت سے انکار شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات ایک ایسے نظام کے اجزاء کے طور پر بیان کئے جاسکتے ہیں جو بین الاقوامی قانون کے تحت نسل پرستی کے مترادف ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ 1948 میں اپنے قیام کے بعد سے، اسرائیل یہودی آبادی کی اکثریت کو قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسرائیل غیر قانونی بستیوں سمیت یہودی اسرائیلیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے زمین اور وسائل پر مکمل کنٹرول بھی استعمال کرتا ہے۔یہودی اسرائیلیوں کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے فلسطینیوں کو نقصان پہنچاتا ہے، جبکہ فلسطینی پناہ گزینوں کو باہر رکھا جا رہا ہے غزہ میں فلسطینی مظاہرین کا غیر قانونی قتل اس بات کی واضح مثال ہے کہ اسرائیلی حکام کس طرح جمود کو برقرار رکھنے کے لیے ممنوعہ کارروائیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ نسل پرستی کے خلاف بین الاقوامی ردعمل کو اب صرف مذمت اور بے بنیاد الفاظ تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔اسرائیل کو نسل پرستی کے نظام کو ختم کرنا چاہیے اور فلسطینیوں کے ساتھ مساوی حقوق اور وقار کے ساتھ انسانوں کی طرح سلوک کرنا شروع کرنا چاہیے۔


































