
عدنان الزرفی کابینہ تشکیل دینے میں ناکام،تمام سیاسی گروہوں نے نامزدگی مسترد کردی، امریکا نواز ہونے کی وجہ سے شیعہ جماعتوں کی سخت مخالفت
مصطفی الکاظمی عراق میں بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، صدر گروپ،عوام کے مطالبات کی عکاس کابینہ بناؤں گا، مصطفیٰ الکاظمی
بغداد (نیوز ڈیسک) امریکا عراق میں اپنی مرضی کا وزیر اعظم لانے کی کوشش میں ناکام ہوگیا،عراقی صدر برہم صالح نے عدنان الزرفی کی کابینہ تشکیل دینے میں ناکامی کے بعد سابق انٹیلی جنس چیف مصطفیٰ الکاظمی کو نیا وزیراعظم نامزد کردیا، انہیں کابینہ تشکیل دینے کیلئے 30دن کی مہلت دی گئی ہے اس سے پہلے سابق وزیر اطلاعات محمد توفیق علاوی اور نجف کے سابق گورنر عدنان الزرفی کابینہ بنانے میں ناکام رہے تھے، عدنان الزرفی کے امریکا نواز ہونے کی وجہ سے شیعہ جماعتوں نے ان کی نامزدگی قبول کرنے سے انکار کردیا تھا، انہیں ایران کا مخالف بھی سمجھا جاتا تھا، جبکہ تمام سیاسی گروہوں کا متفقہ طور پر کہنا تھا کہ برہم صالح کا اقدام آئین کے خلاف تھا کیونکہ وزیر اعظم کے نام کا انتخاب پارلیمنٹ میں سب سے بڑے سیاسی دھڑے کی مشاورت سے کیا جاتا ہے۔ تمام شیعہ،سنی اور کرد جماعتوں کے اتفاق کے بعد صدرنے مصطفی الکاظمی کو نئی کابینہ تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپ دی،صدر برہم صالح نے امید ظاہر کی کہ ایک ایسی قومی حکومت تشکیل پائے گی جو عراقی عوام کے مد نظر اصلاحات کی پابندی اور قوم کے حقوق کا تحفظ کرے گی، مصطفی الکاظمی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ ایسی کابینہ تشکیل دینے کی کوشش کریں گے جو عراقی عوام کے مطالبات کی عکاس ہو اور ان کے مطالبات کو اپنی ترجیحات میں رکھے، دریں اثناالنصر اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ وہ نئی کابینہ کی تشکیل کے سلسلے میں بیرونی دباؤ سے دور رہ کر کچھ سمجھوتوں کے حصول کے خواہاں ہیں، دوسری جانب صدر دھڑے کے ایک سینئر رہنما حاکم الزاملی نے کہا ہے کہ مصطفی الکاظمی عراق میں بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس بدعنوان شخصیات اور فریقوں کے بارے میں بہت سی اطلاعات اور فائلیں ہیں،عراقی کردستان زون کے وزیر اعظم مسرور بارزانی نے بھی الکاظمی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی حمایت کا اعلان کیا عراق کی تحریک عصائب اہل الحق کے سربراہ قیس الخز علی نے بھی الکاظمی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم عراق سے امریکی فوجیوں کے باہر نکلنے کی ضرورت کے موقف پر بدستور قائم ہیں۔


































