
بغداد: عراقی وزیراعظم السوڈانی نے کہا ہے کہ غیر ملکی فوجی دستوں کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے کہ عراق کو مسلح دستوں کی ضرورت نہیں۔ سرکاری ٹی وی چینل العراقیہ سے بات کرتے ہوئے عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارا سیکیورٹی ڈھانچہ کسی بھی قسم کے خطرات سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔ عراق میں بین الاقوامی فوجی اتحاد کی تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ فوجی دستے کب تک یہاں قیام کریں گے، ان کا مشن اور ذمہ داریاں اور تعاون کے شعبے واضح اور شفاف انداز میں بتائے جائیں اور انہیں ایک قانونی شکل دی جائے جسے سیاسی جماعتوں اور پالیمنٹ کے سامنے رکھا جاسکے۔عراقی وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اتحادی فوجوں سے مذاکرات کر رہی ہے اور ہم نے اپنی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی ایک ٹیم بنائی ہے جو ان مذاکرات کی سربراہی کر رہی ہے۔مذاکرات کے بعد ہم حتمی فارمولے پر پہنچیں گے جس کے تحت بین الاقوامی فوجی دستوں کو از سر نو منظم کیا جائے گا۔امریکی سربراہی میں بین الاقوامی فوجی اتحاد عراق میں موجود ہے، 2012 میں امریکی فوج نے عراق سے انخلا کیا تھا۔


































