
ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کردی جس کے نتیجے میں دو سو سے زائد افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ایک بیان میں واضح کیا کہ "یا ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام” کے کوڈ کے ساتھ آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت اسرائیل کے خلاف حملوں کی 61 ویں لہر کا آغاز کیا گیا جس کے تحت 100 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر خرمشہر 4، قدر، عماد اور خیبرشکن میزائل داغے اور 100 سے زائد فوجی اور سکیورٹی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ادھر ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق علی لاریجانی کی شہادت کے جواب میں ایران نے تل ابیب کو کلسٹر وار ہیڈز والے میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
اسرائیل کے خلاف حملوں کی 61 ویں لہر میں اسرائیلی علاقے تل ابیب، بیت شیمش اور مغربی یروشلم پر میزائل داغے گئے۔ حملوں میں طاقتور میزائل خرمشہر، قادر اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔ ایران کی جانب سے پہلی بار حاج قاسم میزائل سے حملہ کیا گیا۔ حاج قاسم میزائل سے اسرائیل اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، غدر اور عماد میزائل بھی دشمنوں پر داغے گئے۔
فیلڈ انفارمیشن کے مطابق، آئی آر جی سی کے اس آسمانی حملے کے بعد، تل ابیب کے کچھ حصوں میں بجلی منقطع ہوگئی ہے، جس سے مقامی فورسز کے لیے صورتحال پر قابو پانا اور ریلیف فراہم کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ اس حملے میں صیہونی حکومت کے ابتدائی جانی نقصانات کا تخمینہ 230 سے زائد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا ہے۔


































