
نیویارک : ایرانی وزیرخارجہ حسین امیر عبداللہیان نے امریکی چینل سی این این کو انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک متعدد مسائل پر دوغلی پالیسی کا شکار ہیں۔ میں نے چند روز قبل یہاں ایک بڑے یورپی ملک کے وزیرخارجہ سے کہا کہ آپ کو یاد ہے جب ایران میں ایک لڑکی کی مشکوک موت واقع ہوئی تو آپ نے کتنا شور مچایا تھا؟ لیکن آج غزہ میں ہزاروں خواتین اور بچوں کو قتل کیا جارہا ہے پر آپ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے اور امریکہ اور یورپ کی طرف ان فلسطینی خواتین اور بچوں کے حق میں کوئی آواز نہیں سنتے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ حجاب ایرانی ثقافت کا ایک جزء لاینفک ہے۔ دوغلی پالیسی کا شکار ممالک نے اس مسئلے پر خواتین کو ورغلا کر اپوزیشن بنانے کی کوشش کی۔ خواتین کو ایرانی معاشرے میں بڑا اہم مقام حاصل ہے اور سیاست اور دیگر شعبوں میں اہم مقامات پر فائز ہیں۔ ہماری خواتین سمجھ دار ہیں اور معاشرے میں بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔ لہذا خواتین بخوبی جانتی ہیں کہ حجاب سمیت اجتماعی مسائل پر کیا موقف اختیار کرنا چاہئے۔ میرے خیال میں اس وقت ایرانی خواتین کا حجاب خطے کا سب سے بڑا مسئلہ نہیں ہے بلکہ خطے کا بڑا مسئلہ غزہ کے 34 ہزار سے زائد عوام ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ ہمیں ان پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے۔


































