
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اسرائیل کے خلاف ثابت قدم رہنے میں ناکامی پر مسلم رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہےکہ ایران ہر طرح سے فلسطینی قوم کی حمایت جاری رکھے گا۔ اگر اسلامی حکومتیں مسئلہ فلسطین پر روز اول سے ڈٹی رہتیں اور مزاحمت کرتیں تو یقیناً مغربی ایشیائی خطے کی صورتحال مختلف ہوتی اور آج امت اسلامیہ مزید مضبوط اور متحد ہوتی۔ غیر ملکی نمائندوں اور سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے ولی امرمسلمین نےکہاکہ اگر اسلامی ممالک بعثت کی تعلیمات پر عمل کرتے تو ظالم صیہونی حکومت ملت اسلامیہ کی آنکھوں کے سامنے مظلوم فلسطینیوں کے خلاف مظالم اور جرائم کا ارتکاب نہ کر پاتی۔ انہوں نے تاکید کی کہ ایرانی قوم اور اس کی اسلامی انتطامیہ فلسطین کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہے گی۔ انہوں نے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں اسلامی جمہوریہ کے واضح موقف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران کو فلسطینی قوم کی کھلے عام حمایت اور دفاع میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے ایرانو فوبیا پر دشمنوں کی توجہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے وہ حکومتیں جو خود فلسطینی قوم کی مدد کرنے کی پابند ہیں اسلام کے دشمنوں کے ایرانوفوبیا منصوبے میں شامل ہوگئی ہیں۔ دشمن ایرانی قوم کے خلاف فوجی، اقتصادی، سیاسی اور پروپیگنڈہ جنگ کے ساتھ صف آرا ہیں۔ لیکن ایرانی عوام نے اپنی مثالی استقامت سے تسلط پسند طاقتوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنادیا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے مسئلہ فلسطین کو امت اسلامیہ کی اہم کمزوریوں اور زخموں میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ عالم اسلام کی آنکھوں کے سامنے ایک وحشی، بدکردار اور فاسق حکومت کے ہاتھوں ایک قوم اور ملک روزانہ نہ ختم ہونے والے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں اور اسلامی ممالک اپنی تمام تر دولت، صلاحیت کے باوجود خاموش ہیں یہاں تک کہ بعض ممالک اس خونخوار حکومت کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔


































