Sat Oct 10, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

ایران نے ناکہ بندی میں نرمی کے دوران 6 ارب ڈالر کا تیل بیچ دیا، امریکی اخبار

واشنگٹن : امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جون کے وسط میں امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی میں عارضی نرمی کے بعد ایران نے نہایت تیزی سے اپنے تیل کی برآمدات میں اضافہ کیا اور 70 ملین بیرل خام تیل عالمی منڈی میں روانہ کیا، جس کی مالیت 5 سے 6 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایران نے اس مختصر مہلت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے تقریباً 20 آئل ٹینکرز ایشیا کی جانب روانہ کیے۔ ان میں سے متعدد ٹینکرز اس وقت ملائیشیا کے مشرقی سمندری علاقے میں موجود ہیں، جہاں سمندر میں ہی جہاز سے جہاز پر تیل کی منتقلی کی جا رہی ہے تاکہ خریداروں تک کارگو پہنچایا جا سکے۔ اخبار کے مطابق، ان ٹینکرز پر لدا زیادہ تر خام تیل چین بھیجا جا رہا ہے، جہاں اسے بالخصوص نجی ٹی پارٹ ریفائنریوں کو فروخت کیا جانا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران برسوں سے پابندیوں کے باوجود اسی نوعیت کے سمندری طریقۂ کار کے ذریعے اپنی تیل برآمدات جاری رکھے ہوئے ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ اس قلیل مدت میں حاصل ہونے والی اربوں ڈالر کی آمدنی ایران کے لیے ایک اہم مالی سہارا ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ نے بعد ازاں دوبارہ پابندیاں اور بحری ناکہ بندی سخت کر دی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے اس مختصر موقع سے فائدہ اٹھا کر ممکنہ نئی پابندیوں سے پہلے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط کرنے کی کوشش کی، جبکہ امریکی حکام بعد میں دوبارہ دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر واپس آ گئے.

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular