
واشنگٹن : امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ جون کے وسط میں امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی میں عارضی نرمی کے بعد ایران نے نہایت تیزی سے اپنے تیل کی برآمدات میں اضافہ کیا اور 70 ملین بیرل خام تیل عالمی منڈی میں روانہ کیا، جس کی مالیت 5 سے 6 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایران نے اس مختصر مہلت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے تقریباً 20 آئل ٹینکرز ایشیا کی جانب روانہ کیے۔ ان میں سے متعدد ٹینکرز اس وقت ملائیشیا کے مشرقی سمندری علاقے میں موجود ہیں، جہاں سمندر میں ہی جہاز سے جہاز پر تیل کی منتقلی کی جا رہی ہے تاکہ خریداروں تک کارگو پہنچایا جا سکے۔ اخبار کے مطابق، ان ٹینکرز پر لدا زیادہ تر خام تیل چین بھیجا جا رہا ہے، جہاں اسے بالخصوص نجی ٹی پارٹ ریفائنریوں کو فروخت کیا جانا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران برسوں سے پابندیوں کے باوجود اسی نوعیت کے سمندری طریقۂ کار کے ذریعے اپنی تیل برآمدات جاری رکھے ہوئے ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ اس قلیل مدت میں حاصل ہونے والی اربوں ڈالر کی آمدنی ایران کے لیے ایک اہم مالی سہارا ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ نے بعد ازاں دوبارہ پابندیاں اور بحری ناکہ بندی سخت کر دی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے اس مختصر موقع سے فائدہ اٹھا کر ممکنہ نئی پابندیوں سے پہلے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط کرنے کی کوشش کی، جبکہ امریکی حکام بعد میں دوبارہ دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر واپس آ گئے.


































