
تہران: ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ امریکا کسی بھی غلط اندازے سے باز رہے۔ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو تہران اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو جائز اہداف کے طور پر نشانہ بنائے گا۔ باقر قالیباف نے پولیس اور ایران کی نیم فوجی انقلابی گارڈز کی تعریف کی کہ انہوں نے مظاہروں کے دوران ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے عوام کو جان لینا چاہیے کہ ہم ان سے انتہائی سختی سے نمٹیں گے اور جنہیں گرفتار کیا گیا ہے انہیں سزا دی جائے گی۔
باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ عوام کے پُرامن معاشی احتجاج کو تسلیم کیا جائے گا، مگر مسلح دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف برقرار رہے گا۔ ایرانی قوم نے مسلح دہشت گردوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جائز اور پُرامن احتجاج کو تسلیم کیا جائے گا اور ان کی سنجیدگی سے تحقیقات کی جائیں گی، تاہم دہشت گرد عناصر کے خلاف کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ قالیباف کے مطابق ایران اس وقت امریکہ اور اسرائیلی رژیم کی جانب سے مسلط کی گئی معاشی، فکری، عسکری اور دہشت گردی کی چار سطحی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کی غیرقانونی امریکی۔اسرائیلی جارحیت میں شکست کے بعد دشمنوں نے دہشت گردی کی جنگ کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں دشمنوں نے بہتر معاشی حالات کے لیے عوام کے جائز مطالبات کو استعمال کرتے ہوئے ایران میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی ہے۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ میں اراکین اپنی نشستوں سے اُٹھ کر ڈائس کی طرف بڑھے اور امریکہ مردہ باد کے نعرے لگائے۔


































