
تہران : ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے یکطرفہ اعلان کا مقصد فوجی منصوبوں کیلئے وقت حاصل کرنا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان توانائی کی قیمتوں کو کم کرنے اور ممکنہ فوجی منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ ایران نے واضح کیا کہ اس حوالے سے امریکی دعوے حقیقت پر مبنی نہیں اور کسی بھی مذاکرات کی تردید کی جاتی ہے۔
ایرانی تجزیہ کار محمد مراندی نے کہا ہے کہ ہر ہفتے جب مارکیٹیں کھلتی ہیں ٹرمپ تیل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے اس قسم کے بیانات دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی پانچ دن کی ڈیڈ لائن بھی انرجی مارکیٹ کے بند ہونے کے وقت کے مطابق ہوتی ہے۔ لیکن حقیقت میں، نہ تو کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں اور نہ ہی ٹرمپ میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی صلاحیت ہے۔ ایران کی سخت دھمکی نے ایک بار پھر ٹرمپ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے. ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھاکہ ایران سے مثبت اور تعمیری مذاکرات ہوئے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں میں انتہائی مثبت اور تعمیری مذاکرات ہوئے ہیں جن کا مقصد خطے میں کشیدگی کا مکمل خاتمہ ہے۔ انہوں نےکہا کہ تفصیلی بات چیت کے باعث ایران کی توانائی کے تنصیبات پر ممکنہ حملے کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ جاری مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہے اور بات چیت ہفتے بھر جاری رہے گی۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت ممکن نہ بنائی گئی تو کارروائی کی جائے گی۔


































