
نیویارک : اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مشن نے دہشتگرد گروہ القاعدہ کے سرغنہ کی ایران میں موجودگی کے دعویٰ کو مسترد کردیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے مزید کہا کہ القاعدہ کا عالمی نیٹ ورک اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ختم ہو گیا تھا اور یہ تنظیم اب موجود نہیں ہے، لیکن اس کا انتہا پسندی پہ مبنی نظریہ اب بھی باقی ہے۔ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے مزید کہا کہ داعش گروپ نے القاعدہ کی جگہ لے لی ہے اور دہشت گردی کی ایک نئی شکل بنائی ہے۔ ایرانی مشن نے مزید کہا کہ القاعدہ کے نئے نامزد کردہ نام نہاد لیڈر کا پتہ نایاب ہے، یہ غلط معلومات ممکنہ طور پر انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے تہران کے علاقائی اثر و رسوخ کے خلاف کیے گئے دعوے اور واشنگٹن کے الزامات کو دہراتے ہوئے تہران میں القاعدہ دہشت گرد گروہ کا سرغنہ ہونے کا الزام لگایا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نید پرایس نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں دعوی کیا کہ دہشت گرد گروہ القاعدہ کا نیا سرغنہ سیف العدل ایران میں ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ داعش کا بانی اور سرپرست ہے، اور اس الزام کو چھپانے کے لیے ایران سمیت دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردی کا الزام لگایا جاتا ہے۔


































