
واشنگٹن: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہےکہ ایرانی قیادت نے امریکا کے ساتھ جون میں ساٹھ روزہ مفاہمتی معاہدے کو کشیدگی کم کرنے کے بجائے وسیع جنگ کی تیاری کے لیے استعمال کیا۔ امریکی اخبار نے رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ تہران کے سخت گیر رہنماؤں نے معاہدے کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے معاشی دباؤ کم کرنے اور آئندہ حملے کے لیے وقت حاصل کرنے کی کوشش سمجھا۔ ساٹھ روزہ مدت میں ایران نے یمن، عراق اور لبنان میں اپنے اتحادی گروہوں کے ساتھ رابطہ اور تعاون بڑھایا۔ رپورٹ کے مطابق تہران نے تباہ شدہ فوجی تنصیبات کی بحالی اور میزائل اڈوں تک رسائی تیزی سے بحال کی۔ جو اسرائیلی حکام کی توقع سے کہیں زیادہ تیز تھی۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکا کی افواج، بحری جہازوں اور خلیج فارس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے بھی خاطر خواہ فوجی صلاحیت برقرار رکھی۔


































