
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ سید مجبتی الحسینی خامنہ ای نے عید نوروز اور عید الفطر پر ایرانی قوم اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے مجاہدین کی نمایاں کامیابیوں پر بھی سب کو مبارکباد دینا ضروری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے امریکا-اسرائیل جارحیت میں شہید ہونے والوں اور جنوری میں بیرونی حمایت یافتہ بدامنی کے متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ اپنے پیغام کے پہلے حصے میں انہوں نے گزشتہ سال کے اہم واقعات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ایرانی عوام نے تین فوجی اور سکیورٹی جنگوں کا سامنا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی جنگ جون میں ہوئی، جب صیہونی دشمن نے امریکا کی خصوصی مدد سے، مذاکرات کے دوران، ملک کے اہم کمانڈروں اور ممتاز سائنسدانوں کو شہید کیا اور بعد ازاں تقریباً ایک ہزار شہریوں کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے غلط اندازہ لگایا کہ ایک دو دن میں عوام خود اسلامی نظام کا تختہ الٹ دیں گے، مگر ایرانی قوم کی بیداری اور مجاہدین کی بہادری نے صیہونی منصوبے ناکام بنا دیے۔
انہوں نے جنوری کی بغاوت کو دوسری جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیرونی حمایت یافتہ فسادات تھے۔ ان کے مطابق امریکا اور صیہونی حکومت نے یہ سمجھا کہ معاشی دباؤ کے باعث عوام دشمن کے مؤقف کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی، مزید شہریوں کو شہید کیا اور ملک کو نقصان پہنچایا۔ تیسری اور موجودہ جنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کا آغاز ایک المناک واقعے سے ہوا، جب قوم نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ امت کے مہربان باپ اور عظیم رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو الوداع کہا، جنہیں 28 فروری کو امریکا-اسرائیل کارروائی میں شہید کیا گیا۔ انہوں نے دیگر شہداء کا بھی ذکر کیا، جن میں میناب کے شجرہ طیبہ اسکول کے بچے اور دینا جہاز کے جوان شامل ہیں۔
ولی امر مسلمین نے کہا کہ دشمن کا اصل ہدف ایران پر تسلط قائم کرنا اور اسے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے۔ ان کے مطابق دشمن کا خیال تھا کہ قیادت اور اہم فوجی شخصیات کو نشانہ بنا کر عوام میں خوف و مایوسی پیدا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے عوام کے ردعمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے روزوں کے ساتھ جہاد کو یکجا کیا اور ملک بھر میں دفاعی صف بندی قائم کی، جس نے دشمن کو حیران کن دھچکا دیا۔ اس کے بعد دشمن متضاد اور بے بنیاد بیانات دینے لگا، جو اس کی ذہنی کمزوری کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کو یہ سمجھ آ گئی ہے کہ وہ صرف میزائلوں، ڈرونز اور فوجی طاقت سے نہیں بلکہ ایک مضبوط قوم کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے عوام کی جانب سے 12 جنوری کو بغاوت ناکام بنانے، 11 فروری اور 12 مارچ (یوم القدس) کے مظاہروں کو عالمی استکبار کے خلاف واضح پیغام قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا محاذ دشمن کے محدود تصور سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ انہوں نے عوام کا شکریہ ادا کیا اور صدر سمیت حکومتی عہدیداروں کو سراہا کہ وہ بغیر کسی تکلف کے عوام کے درمیان موجود رہے۔ انہوں نے ایرانی عوام کے درمیان موجود غیرمعمولی اتحاد کو اللہ کی خاص نعمت قرار دیا، جو مذہبی، فکری، ثقافتی اور سیاسی اختلافات کے باوجود برقرار ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن میڈیا کے ذریعے قومی اتحاد اور سلامتی کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے ملکی میڈیا پر زور دیا کہ وہ اختلافات کے باوجود کمزوریوں کو نمایاں کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ایک معاشی جنگ کا سامنا ہے اور عوام کے روزگار، معیارِ زندگی اور فلاح و بہبود کو بہتر بنانا دفاع اور ترقی کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی معیشت کو مضبوط بنانا دشمن کے خلاف ایک مؤثر جواب اور پیش رفت کی بنیاد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے سلسلے میں میں یہ جانتا ہوں کہ یہ وہ ملک ہے جس سے ہمارے شہید رہبر کا خاص لگاؤ تھا، انہوں نے کہا یہیں پر میں تقاضا کرتا ہوں کہ ہمارے دو برادر ملک یعنی افغانستان اور پاکستان رضائے الہی کی خاطر اور مسلمانوں کے اتحاد کو ٹوٹنے سے بچانے کے لئے ہی سہی آپس میں بہتر روابط قائم کریں اور میں اپنے تئیں لازمی اقدامات کے لئے تیار ہوں۔


































