
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہاہےکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ہم ہرگز مجرمانہ جارحیت کرنے والوں کو آزاد نہیں چھوڑیں گے۔ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا. یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کے عظیم عوام، اس میدان کے حتمی فاتح رہے ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی کی شہادت کے چالیسویں روز اپنے پیغام میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ہم یقیناً ہر پہنچائے گئے زخم کا معاوضہ طلب کریں گے، انہوں نے کہا کہ میں ایران کے جنوبی ہمسایوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ ایک معجزہ دیکھ رہے ہیں۔ تو صحیح طریقے سے دیکھیں، صحیح طریقے سے سمجھیں، صحیح جگہ کھڑے ہوں اور شیطانوں کے جھوٹے وعدوں پر ہمیشہ شک کریں۔ ہم اب بھی آپ کی طرف سے مناسب ردعمل کے منتظر ہیں تاکہ ہم اپنی برادری اور خیر خواہی آپ کو دکھا سکیں۔ یہ تب تک ممکن نہیں جب تک آپ ان مستکبروں اور سامراجیوں سے منہ نہ موڑ لیں جو آپ کی تذلیل اور استحصال کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ یہ بات سبھی جان لیں کہ اللہ کے اذن سے ہم ان تخریب کار حملہ آوروں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے جنھوں نے ہمارے ملک پر حملہ کیا۔ ہمیں پہنچائے گئے ایک ایک نقصان کا ہرجانہ، شہیدوں کا خوں بہا اور اس جنگ کے جانبازوں کی دیت (خوں بہا) ہم ضرور مانگیں گے اور یقیناً آبنائے ہرمز کی مینجمنٹ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کریں گے۔ ہم جنگ کے خواہاں نہیں تھے اور نہ ہیں لیکن کسی بھی صورت میں اپنے مسلّمہ حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے اور ہم اس سلسلے میں پورے مزاحمتی محاذ کو ایک اکائی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود وہ یہ نہ سوچیں کہ سڑکوں پر نکلنا اب ضروری نہیں رہا، عوامی مقامات پر بلند ہونے والی آپ کی آوازیں یقیناً مذاکرات کے نتائج پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے عوام کو تلقین کی کہ جھوٹے وعدوں سے بچیں، ایران کے نقصانات کا ازالہ طلب کیا جائے گا، ریاست اپنے حقوق پر سمجھوتہ کیے بغیر امن کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔


































