
واشنگٹن : امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی زیرِ زمین تنصیبات میں پہلے سے ذخیرہ شدہ پرزہ جات کی مدد سے بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار دوبارہ شروع کر دی ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں میزائل سائٹس اور صنعتی تنصیبات پر حملوں کے باوجود ایران مائع ایندھن اور ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کی اسمبلنگ میں مصروف ہے۔ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق جنوب مشرقی ایران میں کھوجیر میزائل کمپلیکس سمیت متعدد زیرِ زمین مقامات پر سرگرمیاں جاری ہیں۔ میزائل جنگ سے پہلے کی نسبت زیادہ محدود تعداد میں تیار کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس پہلے سے موجود پرزوں سے کم از کم سینکڑوں اور ممکنہ طور پر ہزاروں میزائل تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہو سکتی ہے۔


































