
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے خطے میں پراکسی قوتوں کے خاتمے کے پروپیگنڈہ کے جواب میں کہا ہے کہ ایران کو اپنے مقاصد کے حصول کیلئے کسی پراکسی کی ضرورت نہیں ہے۔
پیغمبر اسلام (ص) کی لخت جگر، مادر حسنین حضرت فاطمہ زہرا (س) کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے بعض شعراء اور ذاکرین اہلبیت علیھم السلام نے ولی امر مسلمین سے ملاقات کی۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ولی امر المسلمین نے کہا کہ ممالک پر تسلط کا امریکی منصوبہ دو چیزوں پر مشتمل ہے آمریت یا پھر افراتفری۔ انہوں نے شام میں افراتفری پیدا کی اور اس وقت یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں فتح نصیب ہوئی ہے، ایک امریکی ارکان اشارتاً کہتا ہے کہ جو کوئی بھی ایران کے اندر فتنہ پھیلائے گا ہم اس کی مدد کریں گے۔ گویا ان احمقوں کو حماقت کی سوجھی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی عوام امریکہ کے لئے غلامی کرنے والے ہر شخص کو اپنے پاوں تلے روند ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن مسلسل کہتے آرہے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ خطے میں اپنی پراکسی قوتوں سے محروم ہو گیا ہے یہ ایک اور واضح غلطی ہے! اسلامی جمہوریہ کی کوئی پراکسی نہیں ہے۔ یمن لڑتا ہے کیونکہ وہ ایمان رکھتا ہے۔ حزب اللہ لڑتی ہے کیونکہ ایمان کی طاقت اسے میدان میں لاتی ہے۔ حماس اور جہاد اسلامی لڑتے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے، وہ ہماری پراکسی نہیں ہیں۔ ولی امر مسلمین نے کہا کہ اگر ہم کسی دن اقدام کرنا چاہیں تو ہمیں کسی پراکسی کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پیشین گوئی کرتا ہوں کہ شام میں بھی ایک مضبوط اور معزز گروہ پیدا ہوگا۔ انہوں نے شام کے حوالے سے کہا کہ شام کے نوجوان کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ ان کی یونیورسٹی غیر محفوظ، ان کا اسکول غیر محفوظ، ان کے گھر غیر محفوظ، ان کی گلی اور محلہ غیر محفوظ، ان کی زندگی غیر محفوظ ہے، آخر وہ کیا کرے؟ ان لوگوں کو پوری قوت اور عزم کے ساتھ ان کیخلاف کھڑا ہونا چاہیے جنہوں نے اس ناامنی اور افراتفری کا منصوبہ بنایا اور جنہوں نے اس کو عملی کیا، اور انشاء اللہ وہ ان پر غلبہ پائیں گے۔ خدا کے فضل سے خطے کا مستقبل اس کے حال (آج) سے بہتر ہو گا۔


































