
واشنگٹن : امریکا کے فارن پالیسی میگزین نے لکھاہےکہ ایران اور اس کے اتحادیوں نے اسرائیل کی ڈیٹرنس کو تباہ کر دیا۔ اخبار کے مطابق اسرائیل کے وزیر اعظم ایریل شیرون نے کہا تھا کہ ڈیٹرنس یعنی خوف اسرائیل کا اصل ہتھیار ہے۔ اسرائیل کے سابق وزیر موشے دیان نے بھی اسرائیل کی ڈیٹرنس کے بارے میں کہا تھا کہ اسرائیل کو ایک پاگل اور خطرناک کتے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جسے کوئی بھی ہراساں کرنے کی جرات نہیں کرتا۔ اخبار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے آپریشن کے بعد اسرائیل اس پوزیشن میں تھا کہ وہ 2006 میں لبنان سے انخلاء کے وقت کو کھوئی اپنی ڈیٹرنس بحال کرسکے لیکن وہ ناکام رہا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ابھی تک حماس کے خلاف کسی بڑی فوجی فتح اور اسے دھچکا پہنچانے سے بہت دور ہے۔
اسرائیل بھی اپنے دشمنوں بالخصوص حزب اللہ کو بھی اپنی طاقت کا پیغام پہنچانے میں ناکام رہا اور اس کے برعکس اسرائیل کی کمزوری اور اس کی ڈیٹرنس کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ حزب اللہ نے مکمل طور پر جنگ میں داخل ہوئے بغیر اسرائیلی فوج کے ایک بڑے حصے کو شمال میں رکھنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ دریائے لیتانی کے شمال کی طرف پسپائی اختیار کرنے کے بجائے، حزب اللہ نے 80,000 اسرائیلی آباد کاروں کو بستیاں خالی کرنے اور فرار ہونے پر مجبور کیا۔ اسرائیل کے اندر ایک بفر زون بنا کر حزب اللہ نے اپنی مساوات مسلط کی اور اسرائیل کو مجبور کیا کہ وہ اپنے محاذ کے اندر ایک سیکورٹی بیلٹ بنائے۔ اپنی شرائط اور مساوات مسلط کر کے اس نے اسرائیل کی ڈیٹرنس کی شدید توہین کی۔
دمشق میں ایرانی قونصل خانے کو نشانہ بنا کر نیتن یاہو نے دباؤ بڑھانے اور طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی، یہ سوچ کر کہ اسرائیل استثنیٰ برقرار رکھے گا اور اسے کوئی جواب نہیں ملے گا، لیکن ہوا اس کے برعکس۔ ایران کی جوابی کارروائیوں پر اسرائیل کا ردعمل بھی انتہائی مایوس کن تھا۔ تاکہ نیتن یاہو کے داخلی سلامتی کے وزیر "اتمار بین گوئیر” نے بھی اسے "مضحکہ خیز” سمجھا۔ دریں اثنا، ایران اقوام متحدہ سمیت مختلف چینلز کے ذریعے اپنی اسرائیل مخالف کارروائیوں کا پیغام پہنچانے میں کامیاب رہا۔


































