
جنیوا : اقوام متحدہ نے ہندوستان پر بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جائزہ اجلاس میں رکن ممالک نے ہندوستان میں جنسی زیادتی، مذہبی منافرت اور اقلیتوں پر تشدد کے واقعات پر تشوش کا اظہار کیا اور ہندوستان پر زور دیا کہ وہ جنسی تشدد اور مذہبی امتیاز پر سخت موقف اختیار کرے۔ رکن ممالک نے اس بات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا کہ ہندوستان میں متنازع انسداد دہشت گردی قانون کا غلط اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس قانون کے وسیع استعمال میں کمی پر زور دیا۔ امریکی سفیر مشیل ٹیلر نے کہاکہ قانونی تحفظ کے باوجود جنس اور مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور تشدد پھیل رہا ہے۔انسداد دہشت گردی کے قانون کا اطلاق انسانی حقوق کے رضاکاروں کی طویل حراستوں کا باعث بنا ہے۔ واضح رہے کہ ہر 4 سال بعد رکن ممالک میں انسانی حقوق کا جائزہ اجلاس ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے دیگر رکن ممالک نے بھارت کو اپنے ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے کی نصیحت کی۔ کینیڈا نے زور دیا کہ مسلمانوں سمیت تمام فرقوں کی مذہبی آزادی کے حقوق کی حفاظت کرے اور جنسی تشدد کے تمام کیسز کی دوبارہ تفتیش کرائی جائے۔اسی طرح سعودی عرب نے نومولود اور زچہ کی شرح اموات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے راست اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ برطانوی سفیر سائمن مینلے نے کہا کہ بھارت بچوں کی مزدوری اور بردہ فروشی سمیت اس سے متعلقہ تمام ملکی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے۔چین نے بھارت کو انسانی اسمگلنگ روکنے کے لیے موثر طریقے اپنانے اور صنفی مساوات کو یقینی بنانے کی تلقین کی اور نیپال نے بھارت پر خواتین پر جنسی تشدد پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات پر زور دیا۔ ان تمام حقائق کے سامنے آنے پر بھارت کے پاس انھیں قبول کرنے کے سوا کوئی اور راستہ نہ بچا تو رکن ممالک کو ٹھوس اقدامات کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کا کردار قابل تعریف ہے۔


































