
جودھ پور: بھارت کے شہر جودھ پور میں عید پر مسلم کش فسادات کے باعث مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جبکہ انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کردی گئی ہیں۔ تنازع چاند رات کو اس وقت شروع ہوا جب ہندو اور مسلم برادریوں کے ارکان نے جلوری گیٹ کے علاقے میں مذہبی پرچم لہرانے پر ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کا کہنا ہے کہ اس علاقے کے قریب جہاں نماز پڑھی جاتی ہے وہاں ہندو دیوتا پاراشورام کے جھنڈے تھے جبکہ جھنڈوں کو ہٹانے کے بارے میں تنازع پیدا ہوا کیونکہ مقامی مسلم کمیونٹی عید کے موقع پر ہر سال جھنڈا لگاتی ہے۔ جلوری گیٹ علاقے کے قریب ایک مسجد بھی واقع ہے اس لیے پولیس نے ہجوم کو وہاں جمع ہونے کی اجازت نہیں دی اور ہجوم کومنتشر کرنے کے دوران کشیدگی بڑھ گئی اور پتھراؤ کیا گیا۔ فسادات کے دوران علاقے میں نماز عید کے لیے نصب لاؤڈ اسپیکر بھی اتار دیے گئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق 5 پولیس اہلکاروں سمیت کئی دیگر افراد زخمی ہوئے۔ عید کی نماز کے بعد فریقین کے درمیان جھڑپوں کا ایک اور سلسلہ شروع ہوا جبکہ کچھ لوگوں نے جلوری گیٹ کے قریب پتھراؤ کیا جھڑپوں کے دوران فسادیوں نے کئی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیے اور کئی اے ٹی ایم میں بھی توڑ پھوڑ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
جھڑپوں اور فسادات کے باعث شہر کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے گزشتہ رات سے ہی انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی ہیں۔ دوسری جانب راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے جھڑپوں کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو شہر میں ہر قیمت پر امن و امان برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔


































