
کابل: افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جہاں ایک طرف لڑکیوں کے اسکول بند کر دیے گئے وہیں مدرسوں کی تعداد میں اضافے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سائنس یا لٹریچر جیسے مضامین پڑھنے کے بجائے ان بچیوں کو صرف قرآن پڑھایا جاتا ہے اور اگر کوئی طالبہ قرآنی آیات کا مطلب سمجھنا چاہے تو پھر اسے علیحدہ سے استاد کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں۔ اساتذہ نے بتایا کہ گزشتہ سال کے بعد سے لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخونزادہ کے احکامات پر لڑکیوں کو اسکول اور یونیورسٹی کی تعلیم سے تو محروم کیا گیا لیکن دوسری طرف سینکڑوں کی تعداد میں مدرسے کھولنے کا حکم جاری کیا گیا۔


































