
اسلام آباد: پولیس لائنز اسلام آباد میں قائم احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا نیب کی جانب سے گرفتار چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کیس میں احتساب عدالت میں نیب کی جانب سے 14 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کردیا اور 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا۔
احتساب عدالت نے نیب کو حکم دیا کہ عمران خان کو 17 مئی کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔ اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ کون سا ریکارڈ اِن کو چاہیے جو میں نہیں مان رہا، نیب کہہ رہا ہے کہ ہم نے ریکارڈ اکٹھا کرنا ہے، جو بھی پیسے آئے تھے کابینہ کی منظوری سے آئے تھے، اس میں ہمارے پاس دو آپشن ہوتے ہیں، یا تو ہم مان جائیں تو پیسہ آ جائے گا، دوسرا ہمیں قانونی چارہ جوئی کرنا ہوتی ہے تو ہم ہر کیس ہار جاتے ہیں، ہم قانونی چارہ جوئی پر آج تک 100 ملین روپے لگا چکے ہیں، مجھے حراست میں لیا گیا، شیشے توڑے گئے، میرے ڈاکٹر کو بلالیں، ڈاکٹر فیصل کو بلائیں، یہ ایک انجکشن لگاتے ہیں جس سے بندہ آہستہ آہستہ مر جاتا ہے، میں کہتا ہوں میرے ساتھ مسعود چپڑاسی والا کام نہیں ہو۔
ادھر توشہ خانہ کیس میں بھی عمران خان پر فرد جرم عائد کردی گئی۔ عمران خان نے صحتِ جرم اور دستاویزات پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔


































