
حضرت فاطمہ ؑ کی نگاہ میں خاندان کی اتنی اہمیت تھی کہ اپنی پوری زندگی کو اسی کی خدمت میں گزار دیا اور دین مقدس اسلام کی حفاظت کیلئے مجاہد تیار کرتی رہیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ایک گھر، معاشرہ، ملک یا دین کی خوش بختی اور بدبختی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ جب رسول اللہﷺ نے گھریلو کام آپ کے ذمہ لگائے تو اتنی خوشی ہوئیں کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگیں اور بڑی دلچسپی کے ساتھ بچوں کی تربیت میں مصروف ہوگئیں۔ اس طرح آپ گھر کو انسان سازی کا مرکز مانتی تھیں۔
حضرت فاطمہؑ کی نگاہ میں اولاد اللہ تعالیٰ کی امانت ہے جن کی تربیت کرنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ تربيت يعنى انسان کے اندر موجود بالقوہ استعدادوں کو بروے کار لانا۔ جس کیلئے اللہ تعالیٰ نے انبیاءؑ بھیجے۔ چنانچہ جناب فاطمہؑ اولاد کے وجود کو باغ کا پھل جانتی تھیں اور پیغمبر اکرم ﷺکی زبان مبارک سے سن بھی چکی تھیں کہ آپؐ کی اولاد آپؑ اور علی ؑ کے صلب مبارک سے آگے بڑے گی۔ اسی لیے ان ہستیوں کی تربیت پر آپؑ نے زیادہ زور دیا۔
حضرت فاطمہؑ تربیت کو عالم بشریت کا نجات دہندہ جاتنی ہیں اور ہمارا ایمان ہے مائیں ہی انسان کو بہشتی یا جہنمی بناتی ہیں۔ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ اس کے برعکس اگر والدین نے غفلت سے کام لیا تو یہی شدید عذاب کا باعث بنے گا۔ اسی طرح اگر اولاد کی تربیت کرنے میں بھی سستی دکھائی تو بہت بڑا صدمہ اٹھانا پڑے گا۔ خصوصاً اگر چھوٹے بچوں کی تربیت میں کوتاہی کی تو ممکن ہے اس سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑے۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت فاطمہؑ اپنے بابا کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے بچوں کی تربیت پر زیادہ زور دیتی تھیں۔ چنانچہ رسول خداﷺ نے فرمایا: اکرموا اولادکم و احسنوا آدابهم ادبوا اولادکم فانکم مسؤولون
اپنے بچوں کا احترام کریں اور اچھے اخلاق سے انہیں مزین کریں اور ادب سکھائیں کیونکہ تم لوگ اپنے بچوں کےبارے میں مسئول اور جواب دہ ہو۔


































