
اس دور میں کوئی امریکی مرضی کیخلاف کچھ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا،بڑی طاقتوں سے متعلق عام نظریہ اور سوچ پر خط بطلان کھینچنا امام خمینی کا بڑا اقدام تھا
امریکی اہلکار نے جس طرح سیاہ فام کو مارا وہ ایسادنیا بھر میں کرتے رہے ہیں، امریکی حکام اپنی ہی حرکتوں اور اقدامات سے خود رسوا ہو گئے،امام خمینی کی برسی پر خطاب
تہران(نیوز ڈیسک) ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امام خمینی? نے بڑی طاقتوں کے ارادوں کو شکست دی اور انہیں پوری طرح رسوا کیا اور آج امریکی عوام اپنی حکومت کے اقدامات اور نا اہلی کی بنا پر دنیا کے سامنے شرمندگی کا احساس کر رہے ہیں، بانی انقلاب امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کی 31ویں برسی پر قوم سے خطاب میں ولی امر مسلمین نے بڑی طاقتوں کے بارے میں عام نظریہ اور سوچ پر خط بطلان کھینچنے کو امام خمینی کا ایک بڑا اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس دور میں کوئی بھی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ امریکا کی مرضی اور ارادے کے بغیر کچھ کر پانا ممکن ہے لیکن امام خمینی نے وہ کام کیا کہ خود امریکی صدور کو کہنا پڑا کہ خمینی? نے ہمیں ذلیل و رسوا کر دیا،امام خمینی اپنی ظاہری رحلت کے برسوں بعد بھی ہمارے درمیان زندہ ہیں اور انہیں ہمارے درمیان زندہ رہنا بھی چاہئے،انہوں نے کہاکہ امام خمینی? نے ایرانی عوام میں حقیقی معنوں میں ترقی و پیشرفت کا شعور جگایا اور وہ ایرانی معاشرے میں واضح تبدیلی لے کر آئے، ساتھ ہی انہوں نے ایرانی عوام کے اندر پائے جانے والے احساس حقارت و کمتری کو خود اعتمادی اور عزت نفس کے احساس میں تبدیل کیا ، ایرانی عوام، اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوری نظام سے بڑی طاقتوں کی دشمنیوں کا ذکر کرتے ہوئے ولی امر مسلمین نے کہا کہ ہمیں بیرونی دشمنوں سے ذرہ برابر بھی غافل نہیں رہنا چاہئے کیونکہ دشمن کا محاذ وسیع ہے جو ایران کے اندر ہر اس اقدام کو ناکام بنانے کی کوشش کرتا ہے جو ملک اور قوم کے مفاد میں انجام پاتا ہے اور صیہونیوں سے وابستہ میڈیا اس پر سوالیہ نشان لگانے کے درپے رہتا ہے ،انہوں نے امریکا کی صورتحال اور پورے امریکا میں نسل پرستی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی جانب بھی اشارہ کیااور کہاکہ آج جو کچھ امریکا کے شہروں اور مختلف ریاستوں میں دیکھنے کو مل رہا ہے وہ کوئی نئی باتیں نہیں ہیں بلکہ ایسی حقیقتیں ہیں جو ابھی تک چھپی ہوئی تھیں اور اب کھل کر سامنے آ رہی ہیں ،ایک امریکی پولیس اہلکار ایک سیاہ فام کی گردن کو گھٹنے تلے اس وقت تک دبائے رکھنا کہ اس کا دم نکل جائے، کوئی نیا واقعہ نہیں یہ امریکا کی سرشت اور فطرت میں ہے اور امریکا یہ کام عراق، افغانستان اور شام جیسے بہت سے دیگر ملکوں میں بھی کرتا رہا ہے ،امریکا میں عوام جو یہ نعرہ لگا رہے ہیں کہ؛ ہمیں سانس لینے دو، یہ ان سبھی قوموں کے دل کی بات ہے جہاں جہاں امریکا نے جاکر ان پر مظالم ڈھائے ہیں، خداوندعالم نے ایسا انتظام کیا کہ امریکی حکام اپنی ہی حرکتوں اور اقدامات سے خود رسوا ہو گئے اور کورونا کی روک تھام میں ان کی نا اہلی نے بھی انہیں ذلیل کیا ہے ،آج امریکی عوام اپنی حکومتوں کی وجہ سے پوری دنیا کے سامنے شرمندہ اور خجل ہیں۔


































