Sun Oct 11, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کریں، شہری بنیادی ڈھانچے کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟، مسعود پزشکیان

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی عوام کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور ایران کو دباؤ کے ذریعے تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مسعود پزشکیان نے امریکا کی جانب سے شہری تنصیبات، خوراک اور لوگوں کے روزگار کو نشانہ بنانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کریں، شہری بنیادی ڈھانچے اور خوراک کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟۔ ایرانی صدر نے بنیادی ضروریات تک رسائی محدود کرنے پر بھی امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر امریکی انسانیت پر یقین رکھتے ہیں تو لوگوں کو پانی، خوراک اور ادویات تک رسائی سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران سعودی عرب کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے، حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں، خطے کے تمام ممالک کو ایک میز پر بیٹھ کر خطے میں امن اور سلامتی قائم کرنی چاہئے۔
مسقط میں آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے درمیان متوقع معاہدے کے بارے میں ایرانی صدر نے کہا کہ اجلاس میں وہ تمام ممالک شریک ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران اپنے بین الاقوامی حقوق چاہتا ہے، جنگ نہیں اب بھی امن کو ترجیح دیتے ہیں، امریکا، اسرائیل اور یورپی ممالک چاہتے ہیں علاقے میں کوئی ملک آزاد نہ رہے۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا کہ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے رہبر اعلیٰ زندہ ہیں اور پہلے کی طرح نظام کے اندر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دشمن ان کے ٹھکانے کا سراغ لگانے میں ناکام رہا ہے، اسی لیے مختلف قسم کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن ہمارے موجودہ رہبر اعلیٰ کے ساتھ بھی وہی کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اس نے سابق رہبر اعلیٰ کے ساتھ کیا تھا۔
مسعود پیزشکیان نے امریکا اور اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایک شخص کے پورے خاندان کو قتل کر دیتے ہیں، ایک عمارت تباہ کر دیتے ہیں اور پھر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ شخص دہشت گرد تھا، یہ اس دنیا میں جرائم کرنے کا ایک نیا طریقہ بن چکا ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular