
جنیوا : اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل فلسطینی قیدیوں پر منظم اور وسیع پیمانے پر تشدد کر رہا ہے جو اجتماعی انتقام کی پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے۔ فرانسسکا البانیز نے بتایا کہ اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کے خلاف منظم اور بڑے پیمانے تشدد اور اذیت کے اقدامات کیے ہیں۔ جو اجتماعی انتقام اور تباہ کن ارادے کو ظاہر کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد قیدیوں کو انتہائی شدید جسمانی اور نفسیاتی اذیت دی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ قید خانوں میں فلسطینیوں پر بدترین تشدد، جنسی ہراس، قتل و غارت، قحط اور بنیادی انسانی ضروریات سے محرومی جیسے مظالم کیے گئے، جن کے اثرات لاکھوں افراد کے جسم اور ذہن پر گہرے اور دیرپا ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ تشدد مردوں، خواتین اور بچوں پر کنٹرول اور سزا کے ایک مستقل طریقے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس میں جبری نقل مکانی، بڑے پیمانے پر قتل، محرومی اور زندگیاں تباہ کرنے کی مہم بھی شامل ہے تاکہ طویل المدتی اجتماعی درد اور تکلیف پہنچائی جا سکے۔


































