
واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ کی غزہ جنگ پر منافقانہ جائزہ رپورٹ کانگریس میں پیش کردی گئی۔ رپورٹ میں امریکی ہتھیاروں کے استعال پر دنیا کو دکھانے کیلئے اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے لیکن خلاف ورزیوں کے ناکافی ثبوت کا دعویٰ کرکے اسلحے کی ترسیل روکنے کا نہیں کہا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اندازہ لگانا مناسب ہوگا‘ کہ اسرائیل نے اس طریقے سے ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے جو بین الاقوامی انسانی قانون سے مطابقت نہیں رکھتے لیکن امریکہ ’حتمی نتائج‘ نہیں اخذ کر سکا۔ یہ رپورٹ کئی دنوں تک محکمہ خارجہ میں زیرِ بحث رہی اور تاخیر سے جاری کی گئی جب صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کو دھمکی دی کہ رفح میں زمینی کارروائی کرنے پر بم اور توپ خانے کے گولوں کی ترسیل روک دی جائے گی۔ کانگریس کو جمع کرائی گئی محکمہ خارجہ کی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کو یقین دہانی کروائی ہے اور ’تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے اس تمام عمل کی نشاندہی کی جو فوجی فیصلہ سازی کی ہر سطح پر موجود ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ میں تنازعے کی نوعیت ہر انفرادی واقعے کا جائزہ لینے یا حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے عمل کو مشکل بناتی ہے۔


































