
گلگت : گلگت بلتستان کی پارلیمانی کمیٹی نے سینیٹ میں عبوری صوبے کا بل مسترد کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔ پارلیمانی کمیٹی آئینی عبوری صوبہ گلگت بلتستان کے ہنگامی اجلاس میں بلوچستان عوامی پارٹی کی جانب سے عبوری صوبہ سے متعلق بل سے متعلق صورتحال پر غور کیا گیا۔ ممبران کمیٹی نے سینیٹ میں جمع کرائے گئے بل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جی بی کے عوام کی مرضی و منشا کے خلاف بلامشاورت ہونے والے ایسے کسی بھی اقدام کی مذمت و مزاحمت ہوگی۔ گلگت بلتستان کی پارلیمانی کمیٹی ٹرانزیشنل پلان پر کام کر رہی ہے اور آئینی مسودے میں مزید بہتری کیلئے سفارشات مرتب کر رہی ہے۔ ایسے میں ڈرامائی انداز میں بی اے پی کی طرف سے ایک غیر جامع آئینی بل جمع کرانا غیر سنجیدہ عمل ہے۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہاکہ انہوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے بذریعہ فون رابطہ کیا ہے اور بل واپس لینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اجلاس میں پارلیمانی کمیٹی نے بطور احتجاج سینیٹ میں بی اے پی کی طرف سے جمع کرائے گئے آئینی ترمیمی بل کی واپسی تک آئینی عبوری صوبہ سے متعلق کام نہ کرنے اور مشاورتی عمل میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔


































