
غزہ : اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم بیت سیلم نے تصدیق کی ہےکہ معاہدے کے تین ماہ بعد بھی غزہ میں نسل کشی جاری ہے۔ خوراک کی محدود دستیابی کے باوجود صورتحال اب بھی خطرناک ہے۔ بیت سلیم نے ایک رپورٹ میں کہا کہ قتل، بمباری اور غزہ کے وسیع رقبے پر قبضہ جاری ہے۔بنیادی ڈھانچے کی تباہ کاری اور انسانی کاموں میں رکاوٹ نے، بے گھر افراد، بھوک اور غذائی قلت کے بحران کو بڑھا دیا۔ بیت سلیم نے کہاکہ صورتحال خطرناک ہونے کے باوجود عالمی برادری نسل کشی اور تباہی کی موجودہ حقیقت کو نظرانداز کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا کہ قابض اسرائیل نے غزہ میں اپنے قبضے کو معاہدے کے برخلاف بڑھایا اور کم از کم 56 فیصد علاقے پر قابض ہو گیا۔ زرد لائن جو فوجی انخلا کی حدود کو ظاہر کرنے کے لیے طے کی گئی تھی، کئی علاقوں میں واضح نہیں کی گئی، جبکہ فوج شہریوں کو لائن کے دونوں جانب نشانہ بناتی رہی۔


































