
تہران: شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی تہران میں ادا کی گئی نمازِ جنازہ کے بعد اب جنازے کے جلوس کا تہران میں آغاز ہو گیا، سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔
ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ جلوس امام حسین چوک، انقلاب گلی، انقلاب چوک، آزادی چوک اور شاہد لشگری ہائی وے سے ہوتا ہوا مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا، شرکا کو گرمی سے بچانے کیلئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔
تہران میں جنازے کے جلوس کے بعد جسد خاکی کو قم لے جایا جائے گا، قم کے بعد پڑوسی ملک عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا بھی لے جایا جائے گا، جہاں لاکھوں لوگ ان کا آخری دیدار کر سکیں گے۔
اتوار کو تہران کے بڑے مذہبی مرکز امام خمینی مصلیٰ میں سابق سپریم لیڈر، ان کی صاحبزادی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری، بہو زہرا حداد عادل اور ان کی معصوم و کم سن نواسی زہرا محمدی کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔
اس بڑے اور تاریخی جنازے میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں سمیت ملک کی پوری سیاسی اور عسکری قیادت شریک ہوئی۔
شہید رہنما کے تین بیٹے محترم جناب میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای پہلی صف میں موجود تھے، تاہم ان کے چوتھے بھائی اور ایران کے موجودہ نئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی کے سخت خدشات کی وجہ سے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے۔
جنازے کے موقع پر تہران میں لاکھوں سوگواروں کا ایک سمندر دیکھا گیا، جہاں فضا غم اور غصے سے بھری ہوئی تھی، کم از کم ڈیڑھ کروڑ لوگ ان تقاریب میں شریک ہو رہے ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق جیسے ہی نمازِ جنازہ ختم ہوئی تو وہاں موجود انتظامیہ کے لوگوں اور منتظمین نے مائیک پر مجمع کو پکارتے ہوئے کہا کہ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے تیار ہو جائیں، جس پر لاکھوں لوگوں نے ایک زبان ہو کر انتقام، انتقام اور امریکہ مردہ باد کے شدید نعرے لگائے۔
عراق میں موجود ایران کے ثقافتی سفیر غلام رضا اباذری نے آخری رسومات کے اگلے سفر کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی سات جولائی کی شام کو عراق کے مقدس شہر نجف پہنچایا جائے گا، جہاں آٹھ جولائی کو نجف اور کربلا میں بڑے جلوس نکالے جائیں گے۔
ایران میں اس وقت سات دن کے سرکاری سوگ کا اعلان ہے اور دور دراز سے آنے والے کروڑوں مسافروں کے رکنے کے لیے پانچ ہزار اسکول کھول دیے گئے ہیں، نو جولائی کو مشہد میں ہونے والی تدفین میں تقریباً دو کروڑ لوگوں کی شرکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔


































