
تہران: شہید رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے افراد کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ تشیع جنازہ میں سوگواروں کا سیلاب امڈ آیا۔ لوگوں کی بڑی تعداد رات سے ہی نماز جنازہ کے مقام پر پہنچ گئی۔ آیت اللہ جعفر سبحانی نے شہید آیت اللہ خامنہ ای، ان کی بیٹی، داماد، نواسی اور بہو کی نماز جنازہ پڑھائی۔ نمازِجنازہ میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر باقر قالیباف، اعلیٰ سرکاری و فوجی حکام سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
تہران کے گرینڈ مصلیٰ کے بڑے صحن میں جمع ہزاروں لوگوں نے ہاتھوں میں سرخ جھنڈے اٹھا رکھے ہیں۔ جنہیں ایران میں خون کا بدلہ اور انتقام لینے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ فضا انتقام اور امریکا مخالف نعروں سے گونجتی رہی۔ ایران کی فضا سوگوار اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔ جسد خاکی تہران میں عوامی دیدار کیلئے رکھی گئیں ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای کے جسد خاکی کو کل جلوس کی شکل میں قم منتقل کیا جائے گا۔ جہاں آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نماز جنازہ پڑھائیں گے۔ اس کے بعد جسد خاکی کو عراقی شہر نجف اور کربلا لے جایا جائے گا۔ نو جولائی کو شہید کی تدفین مشہد میں روضہ امام رضا علیہ السلام کے احاطے میں کی جائے گی۔


































