
قم: شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا جسد خاکی ہیلی کاپٹر کے ذریعے قم پہنچا دیا گیا جہاں آج ایک بار پھر نماز جنازہ ادا کردی گئی۔
ایران کے تاریخی اور مذہبی شہر قم میں رہبرِ اعلیٰ شہید آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔ نمازِ جنازہ میں ملک بھر سے آئے ہوئے لاکھوں سوگواروں، اعلیٰ سرکاری و عسکری حکام، ممتاز مذہبی شخصیات اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اس موقع پر حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے صاحبزادے بھی جنازے میں شریک ہوئے، جن کی موجودگی کو موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ نمازِ جنازہ کی امامت معروف عالمِ دین آیت اللہ جوادی آملی نے کروائی۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے تہران میں نماز جنازہ ادا کی گئی تھی جہاں عالمی میڈیا کے مطابق آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جلوس جنازہ میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی، لوگوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ خلا سے بھی ہجوم دیکھا جاسکتا تھا۔ خبررساں ایجنسی رائٹرز نے سیٹیلائٹ تصاویر جاری کی ہیں جس میں جلوس جنازہ میں شریک افراد کو دکھایا گیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق جلوس جنازہ قومی سطح پر الوادعیہ سے بڑھ کر تھا، جلوس جنازہ بعد از جنگ مزاحمت کی علامت تھا اور اس میں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجود تھا۔
ماہرین کے حوالے سے رائٹرز کا کہنا ہے شرکا نے امریکا اور اسرائیل کو پیغام دیا کہ ایران کے حصے بخرے کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی، ایران اس جنگ میں محفوظ رہا ہے اور یہی بقا اور مزاحمت ایران کی مذاکراتی حکمت عملی کی بنیاد بنے گی۔
ماہرین کے مطابق اس جلوس جنازہ نے آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر ورسوخ بڑھایا ہے اور اس قابل کیا ہے کہ نیوکلیئر پروگرام پر کوئی بھی ڈیل اس بات کو تسلیم کرنے سے جڑی ہو کہ اس آبنائے کو ایران کنٹرول کرتا ہے۔


































