
اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کر لیا، عمران خان کو رینجرز نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان دو مقدمات میں ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے میں عدالت تھے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی احاطہ عدالت سے گرفتاری پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو طلب کرلیا۔
القادر ٹرسٹ کیس میں بشریٰ بی بی نے نیب انکوائری کو چیلنج کردیا۔ القادر یونیورسٹی کیس میں عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے نیب انکوائری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے، درخواست میں چیئرمین اور ڈی جی نیب راولپنڈی کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیاسی مخالفین نے بے بنیاد الزامات پر نیب تحقیقات کا آغاز کیا، عدالت نیب کی انکوائری کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے۔
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما فواد چودھری نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو عدالت کے احاطے سے اغوا کر لیا گیا ہے، وکلا سمیت عام لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، عمران خان کو نامعلوم افراد اٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔
حماد اظہر نے کہا کہ 9 مئی کا دن عمران خان کی گرفتاری کا نہیں بلکہ پاکستان کی آزادی کا دن ثابت ہو گا، اہلیان لاہور لبرٹی چوک پہنچیں، اگلا لائحہ عمل وہاں دیا جائے گا۔
رہنما پی ٹی آئی مسرت چیمہ نے کہا کہ عمران خان ہماری جنگ لڑ رہے تھے، اب یہ ہماری 23 کروڑ عوام کی ہار جیت کا ٹیسٹ ہے، ملک کا سب سے پاپولر لیڈر عدالتوں سے اٹھا لیا گیا ہے، آج اگر ہم میں تھوڑی سی بھی قومی غیرت ہے تو اپنے لیے اور اپنے بچوں کیلئے باہر نکلیں گے۔


































