
یہودی بستیاں وہ ہیں جہاں یہودی قوم کی پیدائش ہوئی اور یہاں وہ پروان چڑھ رہی ہے ،اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی قانون کو نافذ کریں،بنیامین نتن یاہو
شراکت اقتدار کے تحت 18ماہ بنیامین نتن یاہو اور 18ماہ بینی گانٹز وزیراعظم رہیں گے ،نتن یاہو کے خلاف بدعنوانیوں کے مقدمے کی سماعت جاری رہے گی
مقبوضہ بیت المقدس(نیوز ڈیسک) یہودی آباد کاری اور غرب الاردن کو ضم کرنے کے ایجنڈے کی بنیاد پرنئی اسرائیلی حکومت قائم ہوگئی ،اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے 18ماہ کیلئے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہی اپنا شرانگیز منصوبہ پارلیمنٹ میں پیش کردیا ،اور کہاکہ اسرائیل میں حلف اٹھانے والی نئی حکومت کو فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی خودمختاری کا اطلاق کرنا چاہیے ،اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی قانون کو نافذ کریں اور صہیونیت کی تاریخ کا ایک اور شاندار باب لکھیں،انہوں نے یہودی بستیوں کے بارے میں کہا کہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں یہودی قوم کی پیدائش ہوئی اور یہاں وہ پروان چڑھ رہی ہے،نتن یاہو نے غربِ اردن میں واقع یہودی آبادکاروں کی بستیوں اور وادیِ اردن کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے لیے یکم جولائی سے کابینہ میں بحث ومباحثہ شروع کرنے کا اعلان کیا ، اس سے پہلے نتن یاہو اور بینی گینٹز میں شراکت اقتدار کا فارمولا طے پاگیا،اقتدار میں اشتراک کے معاہدے کے تحت پہلے نتن یاہو 18 ماہ بطور وزیراعظم فرائض انجام دیں گے اور اس کے بعد بینی گانٹز وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گے،نئی حکومت کے ایجنڈے میں یہودی آباد کاریوں اور مغربی کنارے میں وادی اردن پر خودمختاری کا ایک ممکنہ اعلان شامل ہے حکومتی سمجھوتے کے تحت نتن یاہو کے خلاف بدعنوانیوں کے مقدمے کی سماعت جاری رہے گی،وہ اسرائیل کے پہلے برسراقتدار وزیراعظم ہوں گے جن کے خلاف بدعنوانیوں کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔تاہم انھوں نے فلسطینی سرزمین کو ہتھیانے کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کوئی نظام الاوقات مقرر نہیں کیا ہے۔


































