
بیت المقدس: اسرائیلی حکام نے پہلی بار مسجد اقصیٰ کے اندر یہودیوں کو باقاعدہ عبادت کی اجازت دے دی۔ جسے فلسطینی اسلامی اوقاف نے مسجد کے دہائیوں پرانی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس نے اتوار کو مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے غیر قانونی صیہونی آبادکاروں کو یہودی مذہبی کتابیں اندر لے جانے اور اجتماعی عبادت کی اجازت دی۔ فلسطینی اسلامی اوقاف کے ایک ذریعے کے مطابق ماضی میں بھی ایسی عبادت کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، تاہم انہیں سرکاری اجازت حاصل نہیں تھی۔ ذرائع نے کہا کہ اسرائیلی پولیس کی جانب سے باضابطہ اجازت دینا مسجد اقصیٰ کے اسٹیٹس کو میں ایک اہم تبدیلی اور کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسٹیٹس کو کے تحت مسجد اقصیٰ کو اسلامی مقدس مقام تسلیم کیا جاتا ہے اور عبادت، رسائی اور انتظامی امور کی ذمہ داری بیت المقدس کے اسلامی اوقاف کے پاس ہے۔ فلسطینی ذریعے نے کہا کہ یہ اقدام مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کی رسائی اور اسلامی اوقاف کے انتظامی اختیار کو محدود کرنے کی وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔ اس کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد مسجد اقصیٰ کی صورتحال میں تبدیلیاں انتہائی تیزی سے آئی ہیں اور تقریباً روزانہ نئے اقدامات سامنے آ رہے ہیں۔ فلسطینی اوقاف نے مسجد اقصیٰ پر اپنا کنٹرول بڑی حد تک کھو دیا ہے.


































