امریکی و اسرائیلی سازش صدی کی ڈیل سے مقابلے کیلئے میدانی جدوجہد، قومی اتفاق رائے اور تمام فلسطینی قوتوں کامتفقہ سیاسی موقف ضروری ہے، صالح العاروری
فلسطینی قوم پر انکی مرضی کے بغیر کوئی منصوبہ تھونپا نہیں جا سکتا، سیاسی سرگرمیاں ضروری ہیں لیکن انہیں اسٹریٹیجک راہ حل تصور نہیں کر لینا چاہئے،سربراہ حماس سیاسی ونگ
غزہ(نیوزڈیسک)حما س نے سینچری ڈیل کیخلاف تین نکاتی ایجنڈے کا اعلان کردیا،حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ صالح العاروری نے میدانی جدوجہد، قومی اتفاق رائے اور متفقہ سیاسی موقف کو حماس کا ایجنڈا قرار دیا،ایک انٹرویو میں صالح العاروری نے کہا کہ امریکی و اسرائیلی سازش "صدی کی ڈیل” کے ساتھ مقابلے کا پہلا نکتہ میدانی جدوجہد ہے جو عوامی، فوجی اور نیم فوجی سمیت مزاحمت کی تمام شکلوں پر مشتمل ہے،انہوں نے کہا کہ قومی اتفاق رائے دوسرا نکتہ ہے، فلسطینی حکومت ایک قومی پروگرام پر اتفاق رائے حاصل کرے تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ فلسطینی قوم پر انکی مرضی کے بغیر کوئی منصوبہ تھونپا نہیں جا سکتا، تمام فریق مل بیٹھ کر باہمی مفاہمت کی پالیسی کو خود تشکیل دیں اور اپنے لئے مساوی ذمہ داریاں تقسیم کر لیں،انہوں نے کہا کہ صہیونی و امریکی سازش سے مقابلے کا تیسرا قدم سیاسی میدان میں تمام فلسطینی قوتوں کے واحد موقف کا حصول ہے، انہوں نے اسے کمزور ترین راستہ قرار دیا اور کہا کہ البتہ عربی، اسلامی و عالمی سیاسی نظام کی تشکیل کا راستہ یہی ہے،انہوں نے مسلح جدوجہد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی سرگرمیاں ضروری ہیں لیکن انہیں اسٹریٹیجک راہ حل تصور نہیں کر لینا چاہئے کیونکہ یہ مسلح مزاحمت ہی ہے جو اسٹریٹیجک راہ حل قرار پا سکتی ہے۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- سینچری ڈیل کیخلاف حماس کے تین نکاتی ایجنڈے کا اعلان
سینچری ڈیل کیخلاف حماس کے تین نکاتی ایجنڈے کا اعلان
-
Ilyas - فروری 27, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 20
- 0 minute read


































