Mon Oct 12, 2026

ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایرانی اخبار یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی

روزانہ کی خبریں

مزاحمتی محاذ میں وسعت

تحریر: عبدالباری عطوان

امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور ترقی یافتہ معیشت کے طور پر متعارف کرایا جاتا رہا ہے، لیکن گذشتہ چند سالوں میں بالخصوص دنیا کی معاشی صورتحال کے عدم استحکام کے بعد امریکہ پہلے جیسی پوزیشن میں نہیں ہے۔ بجٹ کے حوالے سے امریکہ میں محاذ آرائی اور خسارے کا بجٹ، غیر ملکی قرضوں کے ساتھ ساتھ عوامی مظاہروں کا ابھرنا، امریکی معاشرے میں رائج غیر مساوی معاشی حالات، عراق اور افغانستان کی جنگوں کے دوران ملک کی یکطرفہ خارجہ پالیسی اور امریکہ کی فوجی مداخلت، نیز مشرق وسطیٰ کے بحران ایسے عوامل ہیں، جنہوں نے امریکہ کو معاشی لحاظ سے کمزور کر دیا ہے۔

بعض ماہرین کے مطابق ان عوامل نے امریکہ کی نرم طاقت کو کمزور اور اسے کئی چیلنجوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگرچہ امریکہ نے اپنی پالیسیوں کے نفاذ میں اپنی گنجائشوں اور حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا ہے اور دنیا کی حکومتوں اور قوموں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے بھرپور کوشش کی ہے، لیکن اس کی ملکی اور خارجہ پالیسیوں کا نفاذ دوسرے ممالک کی اقدار اور ثقافت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس ملک کی طرف سے دعویٰ کردہ ترجیحات نے امریکہ کی طاقت کو کم کر دیا ہے۔

اسی تناظر میں "رائے الیووم” اخبار کے مدیر "عبدالباری عطوان” نے رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے الفاظ میں امریکی طاقت کے روز بروز زوال اور ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت کا ذکر کیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر نے کہا ہے کہ نیا عالمی نظام ایران اور اس کے اتحادیوں کی طاقت پر مبنی ہوگا، یہ اگلے مرحلے کا اہم عنوان ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی تسلط اور دنیا پر نافذ اس کا معاشی، مالی اور عسکری تسلط اپنے انجام کو پہنچنے کے قریب ہے۔ عرب دنیا کے اس مشہور مصنف نے تاکید کی ہے کہ نئی دنیا میں ایران، روس، چین، ہندوستان، جنوبی افریقہ اور برازیل کی سربراہی میں تمام مظلوم ممالک شامل ہوں گے۔

واضح رہے کہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مزاحمت کے محور سے ٹکرانے کی امریکہ اور مغرب کی تمام تر کوششوں کے باوجود تہران جو اس محور کی حمایت کرتا ہے اور اس کے خلاف مغرب کی تمام پابندیوں اور تسلط کے خلاف اپنی پالیسی جاری رکھنے میں کامیاب رہا ہے، دوسروں کے لئے ایک نمونہ عمل بن چکا ہے اور اس کا مزاحمت کے پورے بلاک پر مثبت اثر پڑا ہے۔ یہ ان محاذوں کی توسیع میں دیکھا جا سکتا ہے، جو اسرائیل کے لیے اب ایک خوفناک اور ڈراؤنا خواب بن چکے ہیں، اس وقت مزاحمت کا نظریہ مختلف محاذوں میں پھیل رہا ہے اور یہ سامراجی طاقتوں کے لئے ایک واضح پیغام ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular