تحریر: مظفر حسین کرمانی
اللہ تعالیٰ اس قدر مہربان ہے ہم پر کہ اس نے ہماری خلقت کے بعد ہمیں تنہا نہیں چھوڑا بلکہ ہماری تربیت اور ضروریات خواہ مادی ہوں یا معنوی انہیں پورا کرنے کیلئے بہترین اہتمام کیا۔ سب سے خوبصورت اہتمام اسکا ہمیں ایک گھرانہ میں پیدا کرنا یے، جہاں محبتوں سے بھرپور افراد جو ہم سے بھی زیادہ ہم سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس گھرانے کا سب سے اہم رکن جسے پروردگار نے گھرانے کا سرپرست بھی قرار دیا وہ باپ ہے۔ یہ وہ ہستی ہے، جو اپنی اولاد کیلئے اپنی زندگی اور اس سے متعلقہ امور کو قربان کر دیتا ہے۔ اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ کہ جب تک اس کی توانائیاں باقی ہوتی ہیں، اپنی اولاد کی ضروریات کو پوری کرنے کیلئے خرچ کر دیتا ہے۔ اسے اپنی فکر نہیں ہوتی، وہ خود عام اور سادہ لباس میں بھی رہنا گوارا کر لیتا ہے، لیکن اپنی اولاد کو بہترین لباس عطا کرتا ہے، خود اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کا پیٹ بھرتا یے، غرضیکہ اپنی تمام خواہشات کا گلا گھونٹ کر اپنی اولاد کی خواہشات اور ضروریات کی تکمیل کے لئے تگ و دو کرتا ہے۔ اگر قدر (value) ایثار کو جسمانی شکل دی جائے تو وہ باپ کی ہی صورت اختیار کرے گی۔
وفا لغت میں کسی شئے کے مکمل ادا کرنے کو کہتے ہیں۔ باپ اپنی اولاد کے مکمل حقوق ادا کرتا ہے، جتنی اس کی توانائی ہوتی ہے۔ وہ ان پڑھ ہو کر بھی اپنی اولاد کو تعلیم یافتہ بنانے کی آرزو کرتا ہے۔ خود بھلے فاسد ہو، لیکن اپنی اولاد کو فساد سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس ہستی کی قربانیوں کو عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ہم ماں کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں جو کہ کرنی بھی چاہیئے، کیونکہ ماں مظہر خدا ہے، لیکن اس ہستی کا مقام بھی ماں سے کمتر نہیں ہے۔ عورت چونکہ اپنے احساسات زیادہ ظاہر کرتی یے، اسے چھپا نہیں پاتی، اسی لئے مائیں اپنی محبت کا کھل کر اظہار کرتی ہیں، لیکن مرد بہت کم ایسے ہوتے ہیں، جو اپنے احساسات کو کھل کر بیان کریں۔ اسی لئے یہ چیز ہم باپ کے وجود میں بھی دیکھتے ہیں کہ وہ ظاہراً محبت کا زیادہ اظہار نہیں کرتا اپنی اولاد سے، لیکن اگر ہم عملی مشاہدہ کریں تو باپ محبت کا عملی نمونہ و مجسمہ ہے۔
یہ سب تربیت پر منحصر یے کہ کس طرح ہم اپنے معاشرے کو روابط برقرار کرنا سکھاتے ہیں، باپ کو چاہیئے کہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرے، تاکہ وہ ہر چیز بغیر کسی جھجھک کے اپنے والد سے بیان کرسکیں۔ ایسا رویہ اختیار نہ کرے کہ بچے کوئی بات اس کے سامنے کہتے ہوئے ڈریں۔ اگر باپ اپنے بچے کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار کرے تو بہتر طریقے سے اس کی تربیت کرسکتا ہے اور اسے ایک صالح انسان بنا کر معاشرے کو پیش کرسکتا ہے۔ جہاں پر بھی اولاد اپنے باپ سے ڈرتی ہے، اس کے نامناسب رویہ کی وجہ سے، وہاں عموماً اولاد منافق بنتی ہے، جو بھلے باپ اور گھر والوں کے سامنے بہت پاکیزہ بننے کا ڈھونگ رچائے، لیکن جب اسے موقع ملتا ہے، وہ پلید و فساد کی طرف رخ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے والد کا سایہ ہمارے سروں پر قائم رکھے اور جن کے اس دنیا سے چلے گئے ہیں، ان کی مغفرت فرمائے۔(آمین)


































