
جو عورت اپنى شوہر كے دل پر حكومت كرنا چاہتى ہے اسے چاہیے كہ اس كى خوشى و مرضى كے اسباب فراہم كرے۔
اس كے اخلاق و كردار اور رفتار و گفتار پر توجہ دے اور اسے اچھے كاموں كى ترغيب دلائے اور برے كاموں سے روكے اس كى صحت و سلامتى اور اس كے كھانے پينے كا خيال ركھے اور اسے ايک باعزت، محبوب اور مہربان شوہر بنانے كى كوشش كرے تاكہ وہ اس كے خاندان كا بہترين سرپرست اور اس كے بچوّں كا بہترين باپ اور مربى ثابت ہو۔
خداوند عالم نے عورت كو ايک غير معمولى صلاحيت سے نوازا ہے۔ خاندان كى سعادت و خوش بختى اور حتی بدبختى بھى اسی كے ہاتھ ميں ہوتى ہے۔
عورت چاہے تو اپنے گھر كو جنت كا نمونہ بنا سكتى ہے اور چاہے تو اسے جہنّم ميں بھى تبديل كرسكتى ہے۔ وہ اپنے شوہر كو ترقى كى بلنديوں پر بھى پہنچا سكتى ہے اور تنزلى كى طرف بھى لے جا سكتى ہے۔
عورت اگر ”شوہر داري” كے فن سے بخوبى واقف ہو اور خدا نے اس كے لیے جو فرائض مقرر فرمائے ہيں انہيں پورا كرے تو ايک عام مرد كو بلكہ ايک نہايت معمولى اور نااہل مرد كو ايک لائق اور باصلاحيت شوہر ميں تبديل كر سكتى ہے۔
ايک دانشور لكھتا ہے: عورت ايک عجيب و غريب طاقت كى مالک ہوتى ہے وہ قضا و قدر كى مانند ہے۔ وہ جو چاہے وہى بن سكتى ہے۔
اسمايلز كہتا ہے: اگر كسى فقير اور بے مايہ شخص كے گھر ميں خوش اخلاق اور متقى و نيک عورت موجود ہو تو وہ اس گھر كو آسائش و فضيلت اور خوش نصيبى كى جگہ بنا ديتى ہے۔
نيپولين كہتا ہے: ” اگر كسى قوم كى ترقى و تمدن كا اندازہ لگانا ہو تو اس قوم كى خواتين كو ديكھو ”
بالزاک كہتا ہے: نيک و پاكدامن عورت كے بغير، گھر ايک قبرستان كى مانند ہے۔
اسلام ميں بيوى كے فرائض كو اس قدر اہميت دى گئي ہے كہ اس كو خدا كى راہ ميں جہاد سے تعبير كيا گيا ہے۔ حضرت على(ع) فرماتے ہيں: عورت كا جہاد يہى ہے كہ وہ بحيثيت بیوى، اپنے فرائض كو بخوبى انجام دے۔
اس بات كو مد نظر ركھتے ہوئے كہ اسلام كى عظمت و ترقى كے لیے اسلامى ممالک كا دفاع كرنے اور سماج ميں عدل و انصاف قائم كرنے كے لیے خدا كى راہ ميں جہاد، ايک بہت بڑى عبادت شمار كيا جاتا ہے يہ بات بخوبى واضح ہو جاتى ہے كہ عورت كے لیے شوہر كى ديكھ بھال كرنا اور اپنے فرائض كو انجام دينا كتنا اہم كام ہے۔
رسول خدا(ص) فرماتے ہيں: جس عورت كو ايسى حالت ميں موت آجائے كہ اس كا شوہر اس سے راضى و خوش ہو اسے بہشت نصيب ہوگى۔
حضرت رسول خدا(ص) كا يہ بھى ارشاد ہے كہ: عورت، خدا كے حق كو ادا نہيں كر سكتى جب كہ وہ بحيثيت شريک زندگى اپنے فرائض كو بخوبى ادا نہ كرے۔


































